Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala August 2020
Al-Risala August 2020

ذہانت کا منفی پہلو

Urdu · 2 min read

ذہانت (intelligence) انسان کی ایک استثنائی صفت ہے۔ انسان جو کچھ ہے، وہ ذہانت ہی کی بنیاد پر ہے۔ ذہانت کے بغیر انسان صرف ایک حیوان ہے، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔ لیکن اِس دنیا کی ہر چیز کی طرح ذہانت کا بھی ایک پلس پوائنٹ ہے اور اس کا ایک مائنس پوائنٹ ہے۔ ذہانت کا پلس پوائنٹ ذہانت کو ایک نعمت بناتا ہے اور ذہانت کا مائنس پوائنٹ آدمی کے لیے ہلاکت کا سبب بن جاتا ہے۔ اِسی لیے خالق (Creator)بہت کم لوگوں کو اعلیٰ ذہانت عطا کرتاہے۔

تجربہ بتاتا ہے کہ اعلیٰ ذہانت آدمی کے اندر بہت جلد ایک خطرناک کم زوری پیدا کردیتی ہے، یہ ضرورت سے زیادہ اعتماد (over-confidence) ہے۔ اعتماد (confidence)بلاشبہہ انسان کے لیے ایک اچھی چیز ہے۔ اعتماد سے آدمی کے اندر یقین اور استقلال پیدا ہوتاہے۔ اعتماد اِس دنیا میں آدمی کو ثابت قدم بناتا ہے، لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ اعتماد اگر اچھی چیز ہے تو ضرورت سے زیادہ اعتماد اتنا ہی زیادہ تباہ کن ہے:

Confidence is good, but over-confidence is equally bad.

اعلیٰ ذہانت والا آدمی بہت جلد اِس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتاہے۔ یہ سوچ اس کو تواضع (modesty) کی صفت سے محروم کردیتی ہے۔ اس کے اندر اپنے بارے میں برتری کا احساس پیدا ہوجاتا ہے۔ اِس احساس کے تحت وہ ایسی باتیں بولتا ہے جس کے لیے وہ اہل (competent) نہیںہوتا۔ وہ ایسے اقدامات کرتا ہے جس کا وہ متحمل نہیں ہوسکتا۔ وہ ایسے نظریات وضع کرتاہے جو حقیقت ِ واقعہ کے خلاف ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ زیادہ ذہین لوگ اکثر کامیاب نہیں ہوتے۔ اعلیٰ ذہانت اُن کو غیر حقیقت پسند بنا دیتی ہے۔ ایسے لوگ خوش فہمیوں (wishful thinking) میں جیتے ہیں اور آخر کار وہ مایوسی کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.