جناب مولانا صاحب یہ میرا تیسرا خط ہے۔ میں نے پچھلے خطوط میں آپ سے عرض کیا تھا کہ میرے واسطے دعا فرمائیں کہ میری دعا خدائے تعالی کے دربار میں قبول ہو۔
میری دعا سو فیصد فطری اور ہر طرح سے واجب اور قابلِ قبول ہے۔ اس لئے آپ سے گزارش ہے کہ میرے واسطے آپ خدا کے دربار میں دعا گو ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی دعا سے میری سب مشکلات دور ہوں گی۔ میری یہ دعا اِسی دنیا میں قبول ہو اور آخرت کے لئے اس کو نہ رکھا جائے۔ میں دنیا میں ہی اس کا ثمرہ دیکھنا چاہتا ہوں۔
آپ خدا تعالی سے دعا فرمائیں کہ وہ میری مدد کرے اور جلد از جلد میرے سامنے نتیجے ظاہر ہوں۔ میں ہمیشہ آپ کا شکر گزار رہوں گا اور دعا قبول ہونے کی صورت میں دین کی ہر تعلیم پر عمل کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔( عمر رفیق، سری نگر)
آپ کی یہ دعا آدابِ دعا کے مطابق نہیں۔ دعا حقیقتاً ایک شخصی عمل ہے۔ یہ تصوردرست نہیں کہ آدمی کسی اور سے اپنے لیے دعا کرنے کے لیے کہے۔ اسلام میں دعا کرنا ہے، اسلام میںدعا کروانا نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ دعا کو مشروط دعا نہیں ہونا چاہیے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اللہ سے یہ کہے کہ خدایا، میرے یہ مسائل ہیں، تو میرے لیے وہ فیصلہ فرماجس میں میری دنیا اور آخرت کے لیے خیر ہو۔
انتظار بھی حل ہے
مختلف زبانوں میں جو مثلیں مشہور ہیں وہ دراصل لمبے انسانی تجربات کے بعد بنی ہیں ۔ ان میں سے ہر مثل کامیابی کا ایک یقینی فارمولہ ہے اس طرح کی ایک انگریزی کہاوت یہ ہے-انتظار کرو اور دیکھو:
Wait and see
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔