Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Al-Risala August 2016
Al-Risala August 2016

خبرنامہ اسلامی مرکز— 244

Urdu · 6 min read

1۔ 4 مئی 2016 کو ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ، حیدرآبادمیں اسلامک سمر کیمپ کا افتتاح کیا گیا۔ اس موقع پر حیدرآباد ٹیم کے مولانا فیاض الدین عمری اور مولانا عبدالسلام عمری کو افتتاحی جلسہ میں تلاوت قرآن اور تلاوت کی ہوئی آیتوں کے ترجمہ و تشریح کے لیےمدعو کیا گیا تھا۔ ان دونوں نے مذکورہ پروگرام میں شرکت کی اورسامعین کو قرآن کی تلاوت اور اس کا پیغام سنایا۔

2۔ 9مئی 2016 کو ناگپور و کامٹی الرسالہ مشن ٹیم کے ممبران محمد عرفان رشیدی صاحب اور ساجد احمد خان صاحب نے وروڑ، ضلع امراوتی کا دورہ کیا ۔ شہر کی جامع مسجد میں الرسالہ قارئین سے ملاقات ہوئی – اس پروگرام میں تقریباً 15 افراد جمع ہوئے جس میں مفتی زاہد خان صاحب سابق ہیڈ ماسٹر، سید میر رستم صاحب سابق پرنسپل اوروروڑ مسلم لائبریری کے ممبران کے علاوہ شہر کے دیگر ذمہ دار افراد نے بھی شرکت کی ۔ میٹنگ میں دعوت الی اللہ کی اہمیت اور اس کام کو کس طرح انجام دیا جائے اس موضوع پر بات ہوئی ۔ اس موقع پر مولانا وحید الدین خان صاحب کا ناگپور ٹیم کے نام ریکارڈیڈ پیغام بھی سنا یا گیا ۔ وروڑ کے ساتھیوں کو انگریزی، مراٹھی، ہندی قرآن اور دعوہ لٹریچر بھی دیے گئے ۔ لوگوں نے اسے خوشی سے قبول کیا اور دعوہ ورک کرنے کا عزم کیا ۔

3۔ الرسالہ مشن سے وابستہ ڈاکٹر سفینہ تبسم بہت دنوں سے اجمیر میں دعوتی کام کررہی ہیں۔ وہ درگاہ خواجہ معین الدین چشتی، مقامی ہسپتال، اور سی آر پی ایف کیمپ وغیرہ مقامات پر قرآن تقسیم کرتی ہیں۔ 11 مئی 2016 کو انھوں نے اپنے والد ڈاکٹر اسلم (سی پی ایس سہارنپور)کے ساتھ مل کر اجمیر کے مشہور ہسپتال، متل ہاسپٹل کے سرجن اور دیگر ڈاکٹروں کوہندی اور انگریزی ترجمہ قرآن اور دی ایج آف پیس پیش کیا۔ تمام لوگوں نے شکریہ کے ساتھ اس کو قبول کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر سمن، اور مسٹر مشاہد بھی موجود تھے۔

4۔ 14-16 مئی 2016 کے درمیان کشمیر کے بارہ مولا میں کک باکسنگ چمپین شپ کا انعقاد کیا گیا ۔ یہ پروگرام انڈین آرمی کے گڈویل پروگرام کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر کشمیر کی دعوہ ٹیم نے پروگرام میں موجود لوگوں کے درمیان ترجمہ قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیا ۔ جن لوگوں نے قرآن لیا ان میں کرنل این ایس بیولی (N S Bevli)، کمانڈنگ آفیسر اور سکریٹری آرمی گڈویل اسکول، تنگمارگ بھی شامل ہیں۔

5۔ ترکی سے ملی خبروں کے مطابق، ترکی کی سب سے بڑی مسجد سلیمانیہ میں گڈورڈ بکس کا چھپا ہوا ترجمہ قرآن بڑی تعداد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس مسجد میں ایک دن کے اندر تقریبا دس ہزار سیاح آتے ہیں، جن کے درمیان مسجد میں موجود دعوہ سینٹر دعوہ لٹریچر تقسیم کرتا ہے۔

6۔ خواجہ کلیم الدین صاحب امریکا کی خبر کے مطابق، صدر اسلامی مرکز کی کتاب، قیامت کا الارم کا پرتگیزی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ اس وقت نظر ثانی کا کام چل رہا ہے۔

7۔ کشمیر ٹیم جگہ جگہ دعوتی کام کر رہی ہے۔ مثلا 4 مئی کو ایک ٹیم نے مشہور ٹورسٹ ریزورٹ گلمرگ میں سیاحوں کے درمیان ترجمہ قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیا۔

8 ۔مسٹر حمید اللہ حمید کی سربراہی میں کشمیر ٹیم نے بیروہ میں ایک دعوہ سینٹر قائم کیا ہے۔ اس سینٹر کا افتتاحی جلسہ 5 جون 2016 کو کیا گیا، جس میں کشمیر کے دعاۃ شریک ہوئے۔ دہلی ٹیم کی طرف سے مسٹر رجت ملہوترا اور مز نغمہ صدیقی نے پروگرام میں حصہ لیا۔ اس جلسہ میں صدر اسلامی مرکز کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ یہ پیغام اس شمارہ میں شامل ہے۔ ذیل میں مبارک باد کا ایک اور پیغام درج کیا جارہا ہے:

Dear Friend Hamidullah Hamid, Heartiest congratulations and best wishes to you and your entire team on the occasion of the inauguration of International Centre for Peace at Apna Ghar, Beerwa on 5 June 2016. The Centre is dedicated for the development of peace and spirituality. (Pramil Kr Bharat, National Convener, Tyagarchana Shanti Mission(

9۔ فیس بک اور دیگر ویب سائٹس پر موجود صدر اسلامی مرکز کی تقاریر اور آرٹیکلس وغیرہ ، پڑھنے کے بعد قارئین اپنے تاثر کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ذیل میں ان میں سے کچھ نقل کیے جاتے ہیں:

l •••• ••آپ کی باتیںبڑی حوصلہ افزا ، حقیقت پر مبنی اور پر امید ہیں۔ اس ناامیدی کے دور میں ایسی فضا قائم کرنا از حد ضروری ہے۔اللہ خوب جزا دے۔(حمزہ نعمانی، سعودی عرب)

l •جنوری 2016 کا الرسالہ بہت عمدہ ہے، اور داعی کی تربیت کے لیے ایک انمول خزانہ ہے۔ میرے خیال میں اسلامی مشن کے ہر ایک داعی کو اپنے اندر وہ تمام اوصاف ڈیولپ کرنےہوں گے جن کا آپ نے تذکرہ کیا ہے۔بہت بہت شکریہ۔ اللہ تعالی آپ کو دنیا و آخرت میں عظیم بھلائی عطا فرمائے۔ (طاہر سعید، پنجاب، پاکستان)

l اللہ اکبر، اتنی خوبصورتی، ایک چیز کو سمجھانے میں آج تک نہیں دیکھی۔ (عمران خان، اسلام آباد)

l میں الرسالہ کو پچیس سال سےپڑھتا ہوں۔بہت اچھا اور ایک نئی سوچ و فکر کا یہ ماہنامہ ہے۔ ملت اسلامیہ کو صبر و تحمل سے کام لینے کی دعوت دیتا ہے۔ اس میگزین کو اپنے مطالعہ میں ضرور رکھنا چاہیے۔ (مولانا اظہار حسن ندوی، مقیم حال قطر)۔

l I am a great admirer of Maulana Wahiduddin (b. 1925). Although he had a Muslim religious education, he was always secular, and preached brotherhood between all communities. He is truly a great man. I have met him on a few occasions. In 1992, when the atmosphere was highly charged throughout India due to the Babri Mosque incident, he felt the necessity to convince people of the need to restore peace and amity between the two communities, so that the country might once again tread the path of peace. To fulfill this end, he went on a 15-day Shanti Yatra (peace march) through Maharashtra along with Acharya Muni Sushil Kumar and Swami Chidanand, addressing large groups of people at 35 different places on the way from Mumbai to Nagpur. This Shanti Yatra contributed greatly to the return of peace in the country. It is because of his advocacy of peace on the subcontinent and throughout the world and his espousal of the cause of communal harmony that he is respected by all communities and in every circle of society. Invited to meetings by all religious groups and communities within India and abroad, Maulana Wahiduddin Khan is, in effect, India’s ambassador of communal amity, spreading the universal message of peace, love and harmony. Directly addressing individuals, he has been re-engineering minds in order to develop positive citizens of the world – who can live together peacefully – so that the culture of peace and brotherhood may spread at a universal level. Over decades, he has prepared

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.