ایک صاحب نے کہا کہ میں بنیادی طور پر ایک امن پسند انسان ہوں۔ لیکن مجھ کو لوگوں کی غلط باتوں پر سخت غصہ آجاتا ہے۔ اس وقت میں مشتعل ہو کر ایسی باتیں کرنے لگتا ہوں جو میرے عام مزاج کے خلاف ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنی اس عادت پر کس طرح قابو پاؤں۔
میں نے کہا کہ جو آدمی آپ کو مشتعل کرتا ہے، یا آپ کو غصہ دلاتا ہے، وہ آپ کا محسن (benefactor) ہے۔ کیوں کہ جب کوئی شخص آپ کو غصہ دلاتا ہے اور آپ غصہ ہوجاتے ہیں۔ اس وقت آپ کا مائنڈ طاقت ور انرجی ریلیز کرتا ہے۔ اس کومیں اینگر انرجی (anger energy)کہتا ہوں۔غصہ کے علاوہ کسی اور سبب سے یہ انرجی ریلیز نہیں ہوتی۔ غصہ کے وقت آپ کے اندر ایک نئی طاقت جاگ اٹھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اینگر انرجی کے وقت آدمی جتنا اسٹرانگ ہوجا تا ہے، اتنا اسٹرانگ وہ کبھی کسی تجربے کے وقت نہیں ہوتا۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو اینگر انرجی آپ کا بہت بڑا اثاثہ ہے۔ عام طور پر لوگ اینگر انرجی کو منفی معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اگر اینگر انرجی کو تعمیر کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو اینگر انرجی کی طاقت سے آپ ایک ایسا کام کرسکتے ہیں، جو آپ اِس کے بغیر نہیں کرسکتے تھے۔
آدمی کے اندر جب اینگر انرجی بھڑکتی ہے تو وہ کچھ دیر کے لیے مین نہیں رہتا بلکہ سوپر مین بن جاتا ہے۔ اس کے اندر ایک نئی طاقت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے اندر ایک نیا عزم (determination) جاگ اٹھتا ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ نئی طاقت کے ساتھ اپنا کام کرسکے۔ اینگر کا لمحہ آدمی کے اندر چھپی ہوئی بالقوہ (potential)طاقت کو بالفعل (actual) طاقت میں تبدیل کردیتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو غصہ زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا مصداق ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی غصہ کے وقت اپنے آپ کو بھڑکنے سے بچائے، وہ اپنے آپ کو اعتدال کی حالت پر قائم رکھے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔