دنیا کی زندگی امتحان (test) کی زندگی ہے۔ یہاں کوئی بھی قانون یا کوئی بھی عدالت انسان کو مجبور نہیں کر سکتی کہ وہ ہمیشہ درست رویہ پر قائم رہے۔ انسان کو درست رویہ پر قائم کرنے والی چیز صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آدمی کے دل میں یہ احساس بیٹھ جائے کہ وہ کسی بھی حال میں اللہ رب العالمین کی پکڑ سے بچنے والا نہیں ہے۔ اللہ رب العالمین کے مقابلے میں اس کے پا س چھپنے کی کوئی جگہ نہیں۔ اس کے پاس کوئی بھی ایسی تدبیر نہیں جو اس کے اور اللہ رب العالمین کے درمیان پردہ بن جائے۔ وہ اللہ رب العالمین کے مقابلےمیں مکمل طور پر بے بس ہے۔
یہ سوچ اگر حقیقی معنوں میں کسی انسان کے اندر پیدا ہوجائے تو اس کی پوری شخصیت کے اندر ایک انقلاب آجائے گا۔ اس کی روز و شب کی سرگرمیاں بدل جائیں گی، اس کی سوچ کا انداز بدل جائے گا، اس کا زاویۂ نظر بدل جائے گا، اس کے رائے قائم کرنے کا انداز بدل جائے گا، خیر و شر کے بارے میں اس کا تصور بدل جائے گا، اس کی پوری زندگی خدا رخی زندگی بن جائے گی، اس کی پوری سوچ پر آخرت کی جوابدہی کا تصور چھاجائے گا، وغیرہ۔
اس انقلاب کو قرآن و سنت میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ اس مبنی بر تزکیہ سوچ کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے اندر ایک نئی شخصیت بننا شروع ہوجائے گی، ایک ایسی شخصیت جس کے اندر اللہ سے محبت ہو، اللہ سے خوف ہو۔ موت سے قبل کی دنیا کے بجائے موت کے بعد کی دنیا کی تعمیر اس کا سب سے بڑا کنسرن بن جائے گا۔ اس سوچ کا سب سے بڑا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے اندر سے فکری جمود (intellectual stagnation) کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس کے بجائے اس کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) بیدار ہوجائے گی۔ اس کی ہر صبح نئی صبح ہوگی، اس کا ہر دن نیا دن ہوگا۔ پوری کائنات اس کے لیے فکری غذا بن جائے گی۔ اس کو ایسا محسوس ہوگا، جیسے کہ اس کو فرشتوں کی صحبت حاصل ہوگئی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔