انسان موجودہ دنیا میں پیدا ہوتاہے۔ یہاں وہ اپنے صبح وشام گزارتا ہے۔ مختلف تجربات کے دوران یہاں اس کی زندگی کا سفر جاری رہتا ہے۔ ان تجربات کے ذریعہ شعوری یا غیر شعوری طورپر انسان کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ یہی موجودہ دنیا حقیقی دنیا (real world) ہے۔ اس کے مقابلہ میں اس کو محسوس ہوتاہے کہ آخرت کی دنیا تصوراتی دنیا(imaginary world) ہے۔دونوں دنیاؤں کے درمیان بظاہر اس فرق کی بنا پر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا تفکیری عمل (thinking process) موجودہ دنیا کی سطح پر جاری ہوجاتاہے۔ اس کی سوچ اور اس کی منصوبہ بندی میں عملاً آخرت کا کوئی مقام باقی نہیں رہتا۔
یہ انسان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ وسیع تر انجام کے اعتبار سے صحیح یہ ہے کہ انسان کے اندر آخرت رخی سوچ (Akhirat-oriented thinking)بنے، نہ کہ دنیا رخی سوچ۔انسان کو اس معاملہ میں بے راہ روی سے بچانے کے لئے فطرت نے یہ انتظام کیا ہے کہ موجودہ دنیا کو مسائل کی دنیا (دار الکبد) بنا دیا۔ یہ مسائل انسان کے لئے اسپیڈ بریکر (speed breaker) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مسائل اس لئے ہیں کہ انسان موجودہ دنیا کو حقیقی دنیا نہ سمجھے بلکہ آخرت کے اعتبار سےاپنی زندگی کی تعمیر کرے۔نفسیات کے ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ انسان کی امتیازی صفت یہ ہے کہ اس کے اندر تصوراتی فکر (conceptual thinking) پائی جاتی ہے۔ یہی وہ صفت ہے جو انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز بناتی ہے۔ یہ تخلیقی صفت بتاتی ہے کہ انسان سے کیا مطلوب ہے۔ وہ مطلوب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کا مقصد تصوراتی فکر کے ذریعے بنائے۔
موجودہ دنیا ایک دکھائی دینے والی دنیا ہے۔ اس کے مقابلے میں آخرت ایک نہ دکھائی دینے والی دنیا۔ اس واقعہ کے مطابق، یہ عین درست بات ہے کہ انسان موجودہ دنیا کے مقابلے میں آخرت کی دنیا کو اپنا مقصود بنائے۔ انسان تصوراتی فکر کی صفت رکھتا ہے، اس لیے اس کی زندگی کا مقصد بھی تصوراتی اعتبار سے قابلِ دریافت ہونا چاہیے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔