موت کے بارے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: أکثروا ذکر ہادم اللذات، یعنی الموت (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر4258)یعنی موت کو یاد کرو جو لذتوں کو ڈھادینے والی ہے۔ موت ایک قسم کا شخصی زلزلہ ہے۔ جس طرح زلزلے کے مقابلے میں آدمی کو کوئی اختیار نہیں ہوتا، اسی طرح موت ایک ایسا یک طرفہ حملہ ہے جس کے مقابلے میں انسان کو مطلق کوئی اختیار نہیں ۔ موت خود اپنے فیصلے کے تحت آتی ہے ، آدمی کو لازماً اس کو اختیار کرنا پڑتا ہے، خواہ وہ اس کو چاہے یا نہ چاہے۔
سروے کے مطابق، آدمی کی اوسط عمر تقریباً ستر سال ہے۔ مزید یہ کہ کسی انسان کو یہ نہیں معلوم کہ کب اس کا آخری وقت آجائے گا۔ یہ احساس آدمی کے لیے ہر دنیوی لذت کو بے لذت بنا دیتا ہے۔ مال، سیاسی اقتدار، شہرت، وغیرہ ہرچیز اس کو بے معنی معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کی زندگی ایک ایسے انتظار کے ہم معنی بن جاتی ہے جس کے متعلق اس کو کچھ بھی نہیں معلوم کہ اس کا انتظار کس حد پر جا کر ختم ہوگا، وہ آج کہاں ہے اور کل وہ کس مقام پر ہوگا۔
یہ معاملہ معروف لذتوں تک محدود نہیں رہتا۔ بلکہ وہ ہر لذت تک پہنچ جاتا ہے۔ مثلا انسان کا یہ مزاج ہے کہ اگر اس کو کسی سے اختلاف پیدا ہوجائے تووہ اس کی کردار کشی (character assassination) کر کے خوش ہوتا ہے۔ اس کی تصویر (image)کو بگاڑنا اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔ برے انداز میں اس کا چرچا کرنا اس کو اچھا معلوم ہونے لگتا ہے، خواہ اس کی بات اپنی حقیقت کے اعتبار سے بے بنیاد کیوں نہ ہو۔ یہ سب اسی لیے ہوتا ہے کہ وہ موت سے غافل ہے۔ اگر اس کو موت کا زندہ یقین ہو تو وہ اس قسم کی منفی باتوں سے رک جائے گا۔ کیوں کہ وہ سوچے گا کہ موت آتے ہی اس کی منفی باتیں اتنا زیادہ بے وزن ہوجائیں گی کہ کوئی اس کو سننے والا بھی نہ ہوگا۔ حتی کہ اس کے اپنے الفاظ بھی اس کا اپنا ساتھ چھوڑ دیں گے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔