رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت حق کی ذمہ داری سونپی گئی تو آپ نے مکہ کے باشندوں کو صفا پہاڑی کے پاس جمع کیا اور فرمایا کہ اے لوگو، جس طرح تم سوتے ہو اسی طرح تم مروگے۔ اور جس طرح تم جاگتےہو اسی طرح تم دوبارہ اٹھائے جاؤگے۔ اس کے بعد یا تو ابدی جنت ہے یا ابدی جہنم۔ یہ سن کر ابو لہب نے کہا، تمھارا برا ہو، کیا تم نے ہم کو اسی لئے بلایا تھا (تبا لک، ما جمعتنا إلا لہذا)۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 4971۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ کے سردار بن کر مدینہ میں داخل ہوئے تو اس وقت بھی آپ نے اسی قسم کی تقریر فرمائی۔ اس وقت بھی آپ کے پاس کہنے کی جو سب سے بڑی بات تھی وہ یہ تھی کہ اے لوگو، اپنے آپ کو آگ کے عذاب سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو (اتقوا النار ولو بشق تمرة)۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 1417۔
اسلامی مرکز کا مقصد اسی پیغمبرانہ دعوت کو زندہ کرنا ہے۔ لوگ مسائل زندگی کے لئے اٹھتےہیں۔ ہم مسائل موت کے لئےاٹھے ہیں۔ کیا کوئی ہے جو اس مشن میں ہمارا ساتھ دے۔ لوگوں کو جنگ اور فساد کے شعلے دکھائی دیتےہیں۔ کیا کوئی ہے جس کو جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلے دکھائی دیتےہوں تاکہ وہ ہمارا ساتھ دے کر دنیا والوں کو جہنم کے شعلوں سے ڈرائے۔لوگوں کو شہروں کی رونقیں دکھائی دیتی ہیں۔ ہم ان انسانوں کی تلاش میں نکلے ہیں جن کو قبرستان کے ویرانے دکھائی دیں۔ ایسے انسانوں سے دنیا پٹی ہوئی ہے جن کو یہ محرومی بیتاب کئےہوئے ہے کہ ان کو کسی ادارہ میں داخلہ نہیں ملا۔ ہم کو وہ انسان درکار ہیں جن کو یہ غم بدحواس کردے کہ کہیں وہ جنت کے داخلہ سے محروم نہ ہوجائیں۔ لوگ دنیا کی بربادی کا ماتم کررہے ہیں۔ ہم ان انسانوں کو ڈھونڈ رہے ہیں جو آخرت کی بربادی کے اندیشے میں دیوانے ہوچکےہوں۔خداکی دنیا میں آج سب کچھ ہو رہا ہے ۔ مگر وہی ایک کام نہیں ہو رہا ہے جو خدا کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ یعنی آنے والے ہولناک دن سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ اگر انسان اس پکار کے لئے نہ اٹھیں تو اسرافیل کا صور اسے پکارے گا۔ مگر آہ، وہ وقت جاگنے کا نہیں ہوگا۔ وہ ہلاکت کا اعلان ہوگا نہ کہ آگاہی کا الارم۔(الرسالہ، جنوری 1984)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔