Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala August 2016
Al-Risala August 2016

پیغامِ کشمیر

Urdu · 2 min read

مسٹر حمید اللہ حمید، اور ان کے ساتھیوں کی کوشش سے جو کشمیر میں انٹرنیشنل پیس سینٹر بنا ہے، اس کے افتتاحی پروگرام کے تحت آپ لوگ یہاں اکٹھا ہوئے ہیں۔ میں آپ لوگوں کے لیے اور آپ کے مشن کے لیے دعا کرتا ہوں۔ اللہ آپ کو کامیابی عطا فرمائے۔

مسلمانوں کا مشن یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ اس اعتبار سے کشمیر کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ کیوں کہ کشمیر کی حیثیت ایک ٹورسٹ اسٹیٹ کی ہے۔ یہاں مسلمانوں کے ساتھ بڑی تعداد میں دوسری قوموں کے لوگ موجود ہیں۔ ہر دن بڑی تعداد میں ٹورسٹ یہاں آتے ہیں۔ یہ سب لوگ آپ کے لیے ایک ذمہ داری ہیں۔ آپ کو یہ کرنا ہے کہ ان سب لوگوں کو اللہ کا پیغام کسی ملاوٹ کے بغیرپہنچائیں۔

آپ میں سے ہر شخص اپنے اندر انسان فرینڈلی بیہیویر (human-friendly behaviour) پیدا کرے۔ انسانوں کی خیر خواہی کے بغیر دعوت کا کام انجام نہیں دیاجا سکتا۔میں آپ کو دعوت کے لیے ایک ٹو پوائنٹ فارمولا (two-point formula) دیتا ہوں۔ آ پ کو یہ کرنا ہے کہ غیر مسلموں کے لیے اسلام کو ان کی ڈسکوری بنائیں، اور مسلمانوں کے لیے اسلام کو ان کی ری ڈسکوری بنائیں۔کیوں کہ غیر مسلم اگر اسلام سے بے خبر ہیں تو مسلمان اسلام کے معاملے میں غافل ہو گیے ہیں۔

کشمیر کو سیب کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ سیب کی تاریخ یاد دلاتی ہے کہ کس طرح نیوٹن نے سیب کے گرنے کو لے کر نیچر کا ایک قانون دریافت کیا۔ سیب کا واقعہ اہل کشمیر کو یاد دلاتا ہے کہ وہ اس سے آگے بڑھ کر یہ کریں کہ وہ سیب کے خالق کو دریافت کریں، اور اس کے پیغام کو ساری دنیا میں پھیلادیں۔کشمیر کے لوگ امیر کبیر شاہ ہمدان کو اپنا بڑا مانتے ہیں۔ امیر کبیر نے کشمیر میں دعوت کے کام کا آغاز کیا تھا۔ اب کشمیریوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ دعوت کے کام کو اس کے اتمام (culmination) تک پہنچائیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.