Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala August 2016
Al-Risala August 2016

کلام کا فتنہ

Urdu · 2 min read

تجربہ بتاتا ہے کہ کچھ لوگ بظاہر حکمت کی بات کہتے ہیں، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ان کی بات ایک غیر حکیمانہ بات ہوتی ہے۔ایسے لوگ بے حد خطرناک ہوتے ہیں۔وہ خوبصورت الفاظ میں ایک ایسی بات کہتے ہیں جو بظاہر صحیح معلوم ہوتی ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ غلط ہوتی ہے۔جو لوگ تجزیہ کی صلاحیت نہیں رکھتے، وہ ایسےلوگوں کی باتوں کو سن کر غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

مجھے ایک بار ایک سیمینار میں شرکت کرنے کا اتفاق ہوا۔ وہاں مختلف مذاہب کے لوگ بلائے گیے تھے۔ مجھے اسلام پر بولنا تھا۔ مجمع کی رعایت سے میں نے اسلام کی بعض تعلیمات کا ذکر کیا۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان وہاں موجود تھے۔ان کا نظریہ تھا کہ ’’اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات‘‘ ہے۔ پروگرام کے بعد انھوں نے میری تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: آ پ نے اسلام کواس کی ٹوٹیلیٹی (totality) میں پیش نہیں کیا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

میں نے کہا کہ اسلام ایک دعوتی مشن ہے۔ دعوتی کلام میں بات کو ٹوٹیلیٹی (totality) کے اسلوب میں پیش نہیں کیا جاتا، بلکہ ہمیشہ اس کو سامع (audience) کی نسبت سے پیش کیا جاتا ہے۔ داعی کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے اسلوب میں کلام کرے جو سامع کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔قرآن میں اس اسلوب کو کلمہ ٔسوا(آل عمران: 64) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

گفتگو کا معیار یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی بات کو خوبصورت الفاظ میں بیان کردے۔ گفتگو کا معیار یہ ہے کہ آدمی جو بات کہے،وہ تجزیہ (rational analysis)کے معیار پر درست ثابت ہو۔ خوبصورت الفاظ اکثر دھوکے میں ڈالنے والے ہوتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ خوبصورت الفاظ میں کی گئی تقریر اور تحریر کو صرف سن کر یا پڑھ کر نہ مان لے، بلکہ وہ اس پر غور کرے۔وہ اس کو ہر پہلو سے جانچے۔اہل علم سے اس پر تبادلۂ خیال (discussion) کرے۔ اس کے بعد وہ اس کے بارے میں اپنی رائے بنائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content