تجربہ بتاتا ہے کہ کچھ لوگ بظاہر حکمت کی بات کہتے ہیں، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ان کی بات ایک غیر حکیمانہ بات ہوتی ہے۔ایسے لوگ بے حد خطرناک ہوتے ہیں۔وہ خوبصورت الفاظ میں ایک ایسی بات کہتے ہیں جو بظاہر صحیح معلوم ہوتی ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ غلط ہوتی ہے۔جو لوگ تجزیہ کی صلاحیت نہیں رکھتے، وہ ایسےلوگوں کی باتوں کو سن کر غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
مجھے ایک بار ایک سیمینار میں شرکت کرنے کا اتفاق ہوا۔ وہاں مختلف مذاہب کے لوگ بلائے گیے تھے۔ مجھے اسلام پر بولنا تھا۔ مجمع کی رعایت سے میں نے اسلام کی بعض تعلیمات کا ذکر کیا۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان وہاں موجود تھے۔ان کا نظریہ تھا کہ ’’اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات‘‘ ہے۔ پروگرام کے بعد انھوں نے میری تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: آ پ نے اسلام کواس کی ٹوٹیلیٹی (totality) میں پیش نہیں کیا۔
میں نے کہا کہ اسلام ایک دعوتی مشن ہے۔ دعوتی کلام میں بات کو ٹوٹیلیٹی (totality) کے اسلوب میں پیش نہیں کیا جاتا، بلکہ ہمیشہ اس کو سامع (audience) کی نسبت سے پیش کیا جاتا ہے۔ داعی کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے اسلوب میں کلام کرے جو سامع کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔قرآن میں اس اسلوب کو کلمہ ٔسوا(آل عمران: 64) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
گفتگو کا معیار یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی بات کو خوبصورت الفاظ میں بیان کردے۔ گفتگو کا معیار یہ ہے کہ آدمی جو بات کہے،وہ تجزیہ (rational analysis)کے معیار پر درست ثابت ہو۔ خوبصورت الفاظ اکثر دھوکے میں ڈالنے والے ہوتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ خوبصورت الفاظ میں کی گئی تقریر اور تحریر کو صرف سن کر یا پڑھ کر نہ مان لے، بلکہ وہ اس پر غور کرے۔وہ اس کو ہر پہلو سے جانچے۔اہل علم سے اس پر تبادلۂ خیال (discussion) کرے۔ اس کے بعد وہ اس کے بارے میں اپنی رائے بنائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔