پیغمبرِ اسلام کا ایک مشن تھا۔ اس مشن کو ایک لفظ میں توحید کی آئڈیالوجی کہہ سکتے ہیں۔ یعنی انسان کو اس کے خدا سے متعارف کرنا۔ خالق اور مخلوق کے درمیان وہ تعلق قائم کرنا جو حقیقتِ واقعہ کی نسبت سے مطلوب ہے۔یہی توحید ہے، اور کسی انسان کی ابدی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اس توحید پر قائم کرے، وہ ایک سچا موحد بن جائے۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ 632 عیسوی میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوگئی۔ 23 سا ل کی اس پوری مدت میں آپ مسلسل طور پر اپنے مشن کی اشاعت میں مشغول رہے۔ 23 سال کی اس مدت میں جو واقعات پیش آئے، وہ پیغمبرِاسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔ توحید کی حیثیت نظریہ کی ہے، اور تاریخ کی حیثیت حالات کی نسبت سے پیش آنے والے واقعات کی۔
جو شخص پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئڈیالوجی اور تاریخ کے اس فرق کو بخوبی طور پر جانے۔ اس فرق کو ملحوظ کیے بغیر جو شخص پیغمبر ِ اسلام کی سیرت کا مطالعہ کرے، وہ یقیناً غلط فہمی کا شکار ہوجائے گا۔ وہ بطورِ خود پیغمبر ِ اسلام کی ایک موضوعی تصویر (objective picture) بنائے گا، مگر یہ تصویر پیغمبر اسلام کی حقیقی تصویر نہ ہوگی، وہ غلط فہمی پر مبنی ایک تصویر ہوگی۔
مثال کے طور پر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پیغمبر ِ اسلام کی زندگی کے تین دور ہیں'-دعوت، ہجرت ، جہاد۔ ان تین ادوار کے مجموعے سے جو نقشہ بنے، وہ پیغمبر ِ اسلام کی زندگی کا مکمل نقشہ ہے۔ مگر یہ تعبیر درست نہیں۔ کیوں کہ دعوت پیغمبر ِ اسلام کی زندگی کا اصل حصہ (real part) ہے، ہجرت اور جہاد (بمعنی قتال) پیغمبرِ اسلام کی زندگی کا صرف اضافی حصہ (relative part)ہے۔ یعنی دعوت کا عمل آپ کے حقیقی مشن کی نسبت سے آپ کی زندگی کا حصہ تھا۔ جب کہ ہجرت اور جہاد(بمعنی قتال) زمانی تاریخ کی نسبت سے آپ کی زندگی کا حصہ بنا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ اگر زمانی حالات مختلف ہوتے تو دعوت آپ کی زندگی میں ضرور شامل رہتی، لیکن ہجرت اور جہاد (بمعنی قتال) آپ کی زندگی میں شامل نہ ہوتے۔
ساتویں صدی عیسوی میں جب پیغمبر ِ اسلام نے توحید کا مشن شروع کیا تو اس وقت عرب میں قبائلی دور (tribal age) پایا جاتا تھا۔ آج ساری دنیا میں تہذیب (civilization) کا دور آچکا ہے۔ آج اگر کوئی شخص پیغمبر ِ ِاسلام کے مشن کا احیاء (revival) کرےتو پرامن دعوت کا حصہ تو ضرور اس کی تحریک میں موجود ہوگا۔ لیکن آج نہ قدیم طرز کی ہجرت کی ضرورت ہے اور نہ جنگ و قتال کی۔ آج دورِ تہذیب میں زمانی حالات ہر اعتبار سے بدل چکے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص آج کے حالات میں یہ کرے کہ وہ ہجرت اور قتال کے طریقے کو سنت رسول سمجھ کر دہرانے لگے تو یقینا وہ غلطی کرے گا۔ وہ سنت رسول کے نام پر سنت رسول سے انحراف کا مرتکب بن جائے گا۔
کرنے کا اصل کام
بیسویں صدی کے نصف اول میں بیشتر مسلم ممالک مغربی طاقتوں کے زیر اقتدار تھے ، خواہ براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر ۔ اس کے بعد آزادی کی تحریکیں چلیں ۔ آج یہ تمام مسلم ممالک سیاسی طور پر آزاد ہیں ۔ ان ملکوں کی تعداد تقریبا 60 تک پہنچ چکی ہے ۔ گنتی کے اعتبار سے اقوام متحدہ کے ممبروں میں سب سے زیادہ تعداد مسلم ملکوں کی ہے ۔ اس کے باوجود عالمی سیاسی نقشہ پر مسلمانوں کا کوئی وزن نہیں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں سیاسی اقتدار ہی سب کچھ ہوا کرتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں سیاسی اقتدار کی حیثیت ثانوی بن گئی ہے ۔ اب تعلیم اور سائنس اور ٹکنالوجی اور اقتصادیات کی اہمیت ہے ... اس لئے آج کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں کو ان غیر سیاسی شعبوں میں آگے بڑھایا جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔