ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن بتایا ہے ، اس کا ایک جزء یہ ہے: أنا الماحی الذی یمحو اللہ بی الکفر(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3532)۔ یعنی میں مٹانے والا ہوں، اللہ میرے ذریعے کفر کو مٹائے گا۔ اس حدیث میں ماحی کا لفظ آیا ہے۔ ماحی کا لفظی مطلب ہے مٹانے والا۔ یہاں مٹانے کا لفظ کسی فوجی معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تمام تر نظریاتی معنی میں ہے۔ یعنی کفر جس نظریاتی بنیاد (ideological base)پر کھڑا ہے، اس نظریاتی بنیاد کودلائل کے ذریعے بے وزن بنادینا۔ کفر کے عقیدے کو اس کی نظریاتی اساس سے محروم کردینا۔ اس معاملے کا کوئی تعلق جنگ و قتال سے نہیں ہے۔
کفر ایک عقیدہ ہے جو انسان کے دماغ میں بطور ایک فکر کے موجود ہوتا ہے۔ فکر کو جنگ کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ بلکہ فکر کو صرف جوابی فکرکے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی کوششوں سے عرب میں ایک انقلابی عمل (revolutionary process) جاری ہوا، جو نہایت موثر طور پر پوری تاریخ میں چلتا رہا۔ جیسا کہ حدیث ( البخاری، حدیث نمبر 3062)میں آیاہے۔ اس انقلابی عمل میں سیکولر لوگوںکی تائید بھی ضرور حاصل ہوگی۔ یہاں تک کہ یہ انقلابی عمل اپنی آخری حد تک پہنچ جائے ۔
موجودہ زمانے میں جس چیز کو ماڈرن سویلائزیشن کہا جاتا ہے، وہ اسی انقلابی عمل کی تکمیل ہے۔ اب اکیسویں صدی میں ’’کفر‘‘ اپنی نظریاتی طاقت کو کھوچکا ہے۔ آج کی دنیا میں انسان کو مکمل معنوں میںمذہبی آزادی حاصل ہے۔ اب وسائل پر کسی کی اجارہ داری (monopoly)نہیں ہے۔ اب تمام مواقع (opportunities) ہر ایک کےلیے کھلے ہوئے ہیں۔ کسی کو یہ حق نہیں رہا کہ وہ اپنے نظریے کو جبراً دوسروں کے اوپرنافذ کرے۔ اب دلیل کی طاقت تمام تر دین حق کو حاصل ہوچکی ہے۔ قدیم زمانے میں ایک اللہ کی عبادت پر بھی روک (العلق: 9-10) تھی۔ آج ایک اللہ کے دین کی اشاعت و تبلیغ کے لیے دنیا کے تمام دروازے پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔