ایک شخص جب اسلام کو قبول کرتا ہے تو وہ کچھ عقائد کا اقرار کرتا ہے۔ ان میں سے ایک عقیدہ فرشتوں (angels) کا عقیدہ ہے۔ فرشتوں پر عقیدہ رکھنا، مذہب اسلام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ یہ فرشتے اللہ کے حکم سے ساری دنیا کا نظام چلارہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میںآئی ہے: ما فیہا موضع أربع أصابع إلا وملک واضع جبہتہ ساجداً للہ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2312)۔یعنی کائنات میں چار انگل جگہ بھی ایسی نہیں ہے جہاں ایک فرشتہ اپنی پیشانی کو جھکائے ہوئےاللہ کے لیے سجدہ کی حالت میں نہیں ۔
بعض روایات میں ساجداًللہ کے بجائے یمجّد اللہ (شرح السنۃ للبغوی، حدیث نمبر4172)کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی اللہ کی تمجید کرتے ہیں۔ حدیث میں سجدہ یا تمجید کا مطلب معروف سجدہ یا تمجید نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے احکام کی کامل تعمیل میں لگا ہونا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کے انتظام میں ا تنے زیادہ فرشتے لگے ہوئے ہیں کہ کائنات ان کی تعداد سے بھر گئی ہے۔
کائنات میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر لمحہ ایک عمل جاری ہے۔ زمین اور بقیہ کائنات میں مسلسل طور پر انتہائی اعلی درجے کی سرگرمیاں موجود ہیں۔ موجودہ زمانےمیں اکثر سائنسدانوں کا یہ ماننا ہے کہ کائنات کے اندر ذہین ڈیزائن (intelligent design) پائی جاتی ہے۔ یہ ذہین ڈیزائن صرف موجود نہیں ہے، بلکہ وہ ہر لمحہ متحرک ہے۔ ہرلمحہ اس کے اندر بامعنی سرگرمیاں جاری ہیں۔ کہکشاؤں کی گردش، شمسی نظام، زمین کے اوپرلائف سپورٹ سسٹم ، وغیرہ ۔ ایسااس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ کچھ غیرمعمولی طاقتوںکا اس کے اوپر کنٹرول ہو۔ وہ نہایت آئڈیل انداز میں اس کا انتظام کرنے میں مشغول ہوں۔ کائنات میں یہ بے خطا انتظام گویا خاموش زبان میں اعلان کررہا ہے کہ اس کے کچھ انتظام کار ہیں۔ یہ انتظام کارخالق کے حکم سے اس کا معیاری انتظام کرنے میں مشغول ہیں ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔