ونسٹن چرچل (Winston Churchill) قدیم برٹش ایمپائر کے وزیراعظم تھے، جس کا ایک حصہ انڈیا تھا۔ اس زمانے میں انڈیا میں فریڈم موومنٹ چل رہی تھی۔ چرچل نے انڈیا کو فریڈم دینے سے انکار کردیا۔ انھوں نے کہا کہ میں برٹش گورنمنٹ کا فرسٹ منسٹر اس لیے نہیں بنا ہوں کہ میں برٹش ایمپائر کے خاتمے کی صدارت کروں:
I have not become the king's First Minister in order to preside over the liquidation of the British Empire.
ونسٹن چرچل برطانیہ کی کنزرویٹیو پارٹی ( Conservative Party) کے لیڈر تھے۔ برطانیہ کی ایک اور پارٹی تھی، لیبر پارٹی (Labour Party)۔ اس کے لیڈر کلیمنٹ اٹلی (Clement Attlee) تھے۔ 1945 کے الیکشن میں لیبر پارٹی جیت گئی، اور اس کے لیڈر کلیمنٹ اٹلی برطانیہ کے پرائم منسٹر بنے۔ ان کی حکومت کے تحت 1947 کو برطانیہ نے انڈیا کو آزادی دے دی۔ 15 اگست 1947 کی رات کو بارہ بج کر ایک منٹ پر ، برٹش وائسرائے ماؤنٹ بیٹن (Lord Mountbatten) نے آل انڈیا ریڈیو پر اعلان کیا کہ آج انڈیا آزاد ہے:
Today, India is free
ونسٹن چرچل اس معاملے میں صرف ایک بات جانتے تھے۔ انڈیا پر برٹش رول کو برقرار رکھنا۔ لیکن کلیمنٹ اٹلی نے دیکھا کہ اب حالات بدل چکے ہیں، اور انڈیا پر برٹش رول قائم نہیں رہ سکتا۔ چناں چہ انھوں نے اس معاملے میں ایک متبادل (alternative) تلاش کیا۔ وہ یہ کہ انڈیا کو پولٹیکل آزادی دینا اور اپنے اقتصادی مفادات (economic interest) کو باقی رکھنا۔ چناںچہ ایسا ہی ہوا۔ 1947 میں برطانیہ نے انڈیا کو سیاسی آزادی دے دی، اور اس کے بعد لمبے عرصے تک وہ انڈیا کی اقتصادیات کا سب سے بڑا پارٹنر بنا رہا۔
1947 سے پہلے انڈیا میں جو سیاسی حالات بنے تھے، وہ بتارہے تھے کہ اب نوآبادیاتی نظام کا دور ختم ہوچکا ہے۔ اب انڈیا میں برٹش حکومت جاری نہیں رہ سکتی۔ ان حالات میں برطانیہ کے مدبرین نے یہ دریافت کیا کہ یہاں ہمارے لیے ایک متبادل (alternative) موجود ہے۔ اور وہ ہے— انڈیا کو سیاسی آزادی دینا، اور اس کے بعد انڈیا میں اپنے اقتصادی مفادات کو محفوظ رکھنا۔ چناں چہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔
واقعات بتاتے ہیں کہ 1947 کے بعد لمبی مدت تک برطانیہ کے اقتصادی مفادات بڑی حد تک محفوظ رہے۔ برطانیہ نے جو کچھ سیاسی میدان میں کھویا تھا، اس کو دوبارہ اس نے اقتصادی میدان میں حاصل کرلیا۔یہی دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔
جب بھی آپ دیکھیں کہ ایک فارمولا (formula )کام نہیں کر رہا ہے تو سوچئے، بہت جلد آپ دریافت کریں گے کہ یہاں ایک متبادل فارمولا (alternative formula) موجود ہے، جس کے ذریعے آپ اپنی کامیابی کا تسلسل قائم رکھ سکتے ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔