Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala August 2015
Al-Risala August 2015

زندہ قومیں کس طرح کام کرتی ہیں

Urdu · 3 min read

اسٹیٹس مین (یکم ستمبر 1967) کی ایک رپورٹ کو بہت کم اخباروں نے اہمیت دی- یہ ایک امریکی خاتون ڈاکٹر سارہ سی- گڈ شنسکی (Sarah C. Gudschinsky)کی ہندستان میں آمد کی اطلاع تھی- دراصل بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ مشنری خاتون کس عظیم مگر خاموش ادارہ کی رکن ہیں اور کس خاص مقصد کے تحت ہندستان آئی ہیں-

ڈاکٹر گڈشنسکی اوکلاہوما یونیورسٹی میں سمرانسٹی ٹیوٹ آف لنگسٹکس (اختصار SIL)کی فیکلٹی کی ممبر ہیں- اس مسیحی ادارہ نے تبلیغ کی دنیا میں ایک بالکل نیا میدان کھولا ہے— وہ اپنے کام کا آغاز ان قدیم قبائل میں کرتے ہیں جو نہایت پس ماندہ ہیں اور جن کی بولیاں ابھی تک پڑھنے لکھنے کی زبانیں نہیں بنی ہیں-

یہ نہایت متمدن اوراعلی تعلیم یافتہ لوگ دنیا کی انتہائی غیر مہذب قوموں میں جاکر برسہا برس رہتے ہیں، ان کی بولیوں کوسیکھتے ہیں،پھر ان کے حروف تہجی بناتے ہیں، قواعد مرتب کرتے ہیں، نصابی کتابیں لکھتے ہیں، پریس قائم کرتے ہیں اور اس طرح ان کی زبانوں کو تحریری زبان بنا کر اور ان میں کتابیں تیار کرکے انھیں پڑھانا شروع کرتے ہیں- ان کی نصابی کتب میں بائبل کاترجمہ بھی ضروری جزو ہوتا ہے-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ ان کی خدمت کے لئے ان کی بستیوں میں جدید طرز کے اسپتال کھولتے ہیں- اس تعلیم اور اخلاقی اثر کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ جب یہ قبائل تعلیم یافتہ ہوجاتے ہیں تووہ صرف تعلیم یافتہ نہیں ہوتے بلکہ اسی کے ساتھ عیسائی مذہب کو بھی قبول کرچکے ہوتے ہیں-

اس ادارہ کا سب سے زیادہ نمایاں کام پیرو کے وسیع جنگلوں میںہورہا ہے جہاں کثرت سے قدیم وحشی قبائل بستے ہیں اور جن کے درمیان رابطہ کا ذریعہ صرف ہوائی جہاز اورکشتیاں ہیں- یہ مسیحی مبلّغین ان لق ودق جنگلوں کے اوپر ہوائی جہاز سے اڑتےہیں اور ریڈیو اور ٹرانسمیٹر لے کر عین وحشی قبائل کی بستیوں میں اتر جاتے ہیں جو نہ صرف مہذب انسانوں کے جانی دشمن ہیں بلکہ ان کی بولیاں اتنی مختلف ہیں کہ مہینوں تک ان کو سیکھنے کی صبر آزما جدوجہد کئے بغیر ان سے کوئی بات بھی نہیں کی جاسکتی-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ جدوجہد تقریباً آدھی صدی سے جاری ہے اوراس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ان گھنے جنگلوں کے اندر اسکول، اسپتال، گرجا ، ہوائی میدان، ریڈیو اسٹیشن اور نہیں معلوم کیا کیا قائم ہیں اور تیرہ مختلف زبانیں بولنے والے وحشی قبائل کی بہت بڑی تعداد مہذب اور تعلیم یافتہ ہو کر عیسائی ہوچکی ہے- یہ کام جو ابتداء ً شمالی امریکہ کے جنگلوں میں شروع کیا گیا تھا، اب دنیا کے اٹھارہ ملکوں میں پھیلا ہوا ہے-ہندستان میں بھی مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں دو ایسے ادارے قائم کئے جارہے ہیں اور یہی اس وقت ڈاکٹر گڈ شنسکی کی یہاں آمد کا باعث ہے-

غور کیجئے— آج کی زندہ قومیں کتنی اونچی سطح سے کام کررہی ہیں- انھوں نے اپنے عمل اور جدوجہد کے ذریعہ دنیا سے زندگی کا حق وصول کیا ہے- اس کے برعکس ہمارا کیا حال ہے- ہم نے سمجھ رکھا ہے کہ سطحی تدبیروں اور جذباتی تقریروں سے سارا میدان فتح ہوجائے گا-

(ہفت روزہ الجمعیة، 15 ستمبر 1967)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content