← Al-Risala August 2015Al-Risala August 2015
اسلام اور دورِ جدید
Urdu · 12 min read
موجودہ زمانہ میں نظری اور عملی اعتبار سے بہت سی تبدیلیاں وقوع میں آئی ہیں۔ اس بنا پر موجودہ زمانہ کو نیا زمانہ کہاجاتا ہے- بیسویں صدی اس نئے زمانہ کا نقطۂ انتہا ہے۔ اس زمانہ میں ایک نیا ظاہرہ پیدا ہوا جس کو جدید ذہن (modern mind) کہاجاتا ہے۔ اس صورت حال کی بنا پر یہ ضرورت پیش آئی کہ جدید ذہن کے لئے اسلام کو قابل فہم (understandable) بنایا جائے۔اس مقصد کے لیے مسلم اہلِ علم نے مختلف زبانوں میں کئی کتابیں تیار کیں۔انہی میں سے ایک مشہور کتاب ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938) کی ہے، جو خاص اسی موضوع پر لکھی گئی ہے- یہ کتاب اس موضوع پر مصنف کے انگریزی خطبات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے:
The Reconstruction of Religious Thought in Islam
مگر عجیب بات ہے کہ یہ کتاب اپنے قاری کو کنفیوزن کے سوا کچھ اور نہیں دیتی- کتاب کے مضامین اتنے زیادہ غیر واضح ہیں کہ کوئی شخص یہ نہیں بتاسکتا کہ اس کتاب کا خلاصہ کیا ہے- حتى کہ کتاب کا ٹائٹل (The Reconstruction of Religious Thought in Islam) خود بھی ایک غیر واضح ٹائٹل ہے- اردو میں اس کا ترجمہ یہ ہوگا — الہیاتی افکار کی تشکیل جدید۔ مگر یہ ٹائٹل نہ انگریزی میں قابلِ فہم ہے اور نہ اردو ترجمہ میں قابلِ فہم۔
ڈاکٹر محمد اقبال کی مذکورہ کتاب میں یہ کنفیوزن کیوں پایا جاتا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ بلکہ اس کا ایک معلوم سبب ہے۔ اس معلوم سبب کو لے کر سمجھنے کی کوشش کی جائے تو آسانی کے ساتھ مذکورہ کتاب کے مندرجات میں کنفیوزن کا سبب دریافت کیا جاسکتا ہے-حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد اقبال اصلاً ایک فلسفی آدمی ـتھے۔ انھوں نے قدیم فلسفہ کو بطور سبجیکٹ پڑھا تھا اور اس کا مطالعہ کیا تھا۔ اس تعلیمی پس منظر کی بنا پر ان کے ذہن میں جو ماڈل بنا وہ فلسفیانہ ماڈل تھا۔ وہ چیزوں کو اپنے اسی فلسفیانہ ماڈل کی روشنی میں دیکھتے تھے۔ وہ اپنے مخصوص شاکلہ کی بنا پر ہر چیز کو اسی فلسفیانہ ماڈل میں ڈھالتے رہے۔ مگر فلسفیانہ ماڈل ایک انسان ساز (man-made) ماڈل ہے جب کہ اسلام اس معنی میں کوئی فلسفیانہ مذہب نہیں۔ اسلام فطرت خداوندی پر مبنی ایک مذہب ہے۔
اسلام کی آئیڈیالوجی اور اس کی تعلیمات فطرت خداوندی کے اصولوں پر مبنی ہیں- اس حقیقت کا اعلان قرآن میں ان الفاظ میں کیاگیا ہے: فِطْرَتَ اللَّہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا (30:30) اسی طرح فرمایا کہ یُدَبِّرُ الْأَمْرَ یُفَصِّلُ الْآیَاتِ (13:2)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ڈاکٹر محمد اقبال کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے فلسفیانہ ماڈل کو شعوری یا غیر شعوری طورپر معیاری ماڈل سمجھ لیا اوراسی فلسفیانہ ماڈل کے مطابق اسلام کی تشریح کرنے لگے۔ چونکہ فطرت کا ماڈل الگ ہے اور فلسفہ کا ماڈل الگ۔ اس فرق کی بنا پر اقبال کے بیانات میں کنفیوزن پیدا ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد اقبال نے قرآن کے جنت اور جہنم کے تصور کو واضح کرنے کی کوشش کی تو جنت اور جہنم کو اپنے اختیار کردہ فلسفیانہ ماڈل میں ڈھال دیا۔ چنانچہ انھوں نے لکھا ہے کہ جنت اورجہنم احوال ہیں، وہ مقامات نہیں:\
Heaven and Hell are states, not localities.
اقبال کے اس بیان میں ایک فطری حقیقت کو فلسفیانہ ماڈل میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ایک عدم مطابقت کا معاملہ ہے۔ اسی عدم مطابقت نے اقبال کے بیان میں کنفیوزن پیدا کردیا۔
اِس نوعیت کی ایک اور مثال حال میں سامنے آئی ہے۔ ایک معاصر مسلم دانشور جنھوں نے اعلی تعلیم حاصل کی، وہ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں بخوبی دستگاہ رکھتے ہیں- انھوں نے اپنے بیان کے مطابق ستر سال سے زیادہ مد\ت تک اسلامیات کا مطالعہ کیا ہے۔ایک سیمینار میں انھوں نے اِس موضوع پر ایک مقالہ پیش کیا۔ یہ مقالہ ایک مسلم میگزین میں چھپا ہے۔ اور اس کا عنوان یہ ہے:
علم: اسلامائزیشن سے تخلیق کی طرف
یہ عنوان بالکل غیر واضح عنوان ہے۔ اسی طرح اِس مقالے کے بیانات میں بھی وضوح (clarity) موجود نہیں۔ میںنے کئی تعلیم یافتہ لوگوں کو ان کا مقالہ پڑھوایا اور پوچھا کہ اس کا خلاصہ کیا ہے۔ ہر ایک کا جواب یہ تھا کہ ہم کو اِس میں کنفیوزن کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔
مصنف نے اپنے اس مقالے میں کہا ہے کہ آج ہم کو تخلیق ِ علم (knowledge creation) کی ضرورت ہے۔ لیکن پورے مقالے میں انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اُن کے نزدیک تخلیق علم کی تعریف (definition) کیا ہے۔ قاری پورے مقالے کو اس طرح پڑھتا ہے کہ اس میں ’’تخلیق علم‘‘ کا لفظ تو بار بار استعمال ہوا ہے، لیکن قاری کو نہیں معلوم کہ اس اصطلاح کا واقعی مفہوم کیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تخلیق علم کوئی معروف اصطلاح نہیں۔ جاپان کے ایک شخص نے غالباً پہلی بار تخلیق ِ علم کی اصطلاح وضع کی۔ وہ اس کو کمپنی کے معاملات کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا، لیکن خود اس جاپانی شخص کے ذہن میں بظاہر اس اصطلاح کا کوئی واضح تصور موجود نہ تھا۔ چنانچہ یہ اصطلاح اپنے عدم وضوع کی بنا پر عمومی طورپر مقبول نہ ہوسکی۔اس موضوع پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی جدید وضاحت کے لیے جو کام مطلوب ہے، وہ نہ ’’ری کانسٹرکشن‘‘کا کام ہے اور نہ ’’تخلیقِ علم‘‘ کا کام۔ یہ وہی کام ہے جس کے لیے حدیث میں اجتہاد کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جدید ذہن کو ایڈریس کرنے کے لیے آج جس چیز کی ضرورت ہے، وہ یہی اجتہاد ہے، نہ کہ ری کانسٹرکشن اور تخلیق ِ علم۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اجتہاد کیا ہے۔ اجتہاد دراصل تطبیقِ نو (reapplication) کا دوسرا نام ہے۔ قرآن اور حدیث میں جو باتیں کہی گئی ہیں، وہ اپنے اسلوب کے اعتبار سے زمانی ہیں، لیکن تطبیق کے اعتبار سے وہ ابدی ہیں۔ اِس حقیقت کو دریافت کرنے کا نام اجتہاد ہے۔ اِس معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں قرآن سے کچھ مثالیں درج کی جاتی ہیں:
1۔ قرآن کی سورہ العنکبوت میں ایک آیت اِن الفاظ میں آئی ہے:قُلْ سِیرُوا فِی الْأَرْضِ ثُمَّ انظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُکَذِّبِینَ (6:11)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں ’’سیر فی الأرض‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ آیت ساتویں صدی کے نصف اول میں اتری، جب کہ دنیا میں پرنٹنگ پریس کا زمانہ نہیں آیا تھا۔اِسی طرح اس وقت قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ کے بارے میں کتابیں مرتب نہیں ہوئی تھیں۔ اب یہ سب کچھ ہوچکا ہے۔ اِس لیے قرآن کی اِس آیت کی تفسیر اِس طرح کی جائے گی کہ قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کرو اور اس سے سبق حاصل کرو۔ اِس مطالعے سے معلوم ہوگا کہ ہر قوم عروج کے بعد زوال کا شکار ہوتی ہے، یہ تاریخی ظاہرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تاریخ کو کنٹرول کرنے والا انسان نہیں، بلکہ ایک اور بالاتر عامل ہے جو انسانی تاریخ کو کنٹرول کررہا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2۔ اِسی طرح قرآن کی ایک اور آیت یہ ہے: وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیرَ لِتَرْکَبُوہَا وَزِینَةً ۚ وَیَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (16:8) یعنی اور اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے بھی اور وہ ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے۔
Qur'anQuotes the Qur'an
قرآن کی اِس آیت میں جو اصول اختیار کیاگیا ہے، اس کا ایک مفہوم وہ ہے جو آیت کے زمانہ نزول کے اعتبار سے ہے۔ اِسی کے ساتھ اِس آیت کا ایک وسیع تر مفہوم بھی ہے۔ اِس وسیع تر مفہوم کی روشنی میں آیت کا مطالعہ کیا جائے تو قرآن کی اِس آیت کے الفاظ موجودہ حالات کے اعتبار سے پوری طرح قابلِ انطباق (applicable) ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ کہ آیت میں خیل، بغال، حمیر کے الفاظ علامتی طورپر قدیم زمانے کے ورلڈآف نیچر (world of nature) کو بتاتے ہیں۔ اِسی طرح یخلق مالا تعلمون کے الفاظ بعد کے زمانے میں ظہور میں آنے والے ورلڈ آف ٹکنالوجی (world of technology) کو بتارہے ہیں۔
3۔ موجودہ زمانہ میں جو مسائل پیدا ہوئے ہیں ان میں متفقہ طور پر، سب سے بڑا مسئلہ وہ ہے جس کو ماحولیاتی مسئلہ (ecological problem) کہا جاتا ہے۔ بے شمار دماغ اس مسئلہ پر کام کررہے ہیں۔ مگر ابھی تک اس کا حل دریافت نہ ہوسکا- قرآن میں اس سلسلہ میں ایک آیت موجود ہے جو بتاتی ہے کہ اس معاملہ میں صحیح طرز فکر (right way of thinking)کیا ہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی سورہ الروم میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیقَہُم بَعْضَ الَّذِی عَمِلُوا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ(30:41)۔
Qur'anQuotes the Qur'an
اِس آیت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دورِ صنعت کے اس ظاہرہ کا ذکر ہے جس کو صنعتی کثافت (industrial pollution) کہاجاتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ فضا اور سمندر دونوں مہلک آلودگی (harmful pollution) کا کیس بن گئے ہیں۔
قرآن کی آیت کے مطابق یہ مسئلہ تمام تر انسانی ساخت کا مسئلہ (man-made problem) ہے- لعلہم یرجعون کا لفظ بتاتا ہے کہ اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ انسان فطری طرز زندگی (natural lifestyle) کی طرف واپس جائے جس کو چھوڑنے کی وجہ سے یہ مسئلے پیدا ہوئے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اجتہاد ایک ضرورت
اجتہاد اصلاً کوئی زمانی ضرورت نہیں، بلکہ وہ ایک فطری ضرورت ہے۔ چنانچہ خود رسول اور اصحابِ رسول کے زمانہ میں بار بار اجتہاد کا عمل کیا گیا۔ اسی طرح آج بھی اجتہاد کیا جائے گا- اجتہاد کے عمل کے لئے نہ کسی نئی اصطلاح کی ضرورت ہے اور نہ کسی نئے منہج کووضع کرنے کی ضرورت۔
موجودہ زمانہ میں اسلام کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں لکھی اور چھاپی گئ ہیں۔ ان میں سے جو کتاب کسی معلوماتی موضوع پر ہوتی ہے وہ تو قاری کے لئے قابلِ فہم ہوتی ہے۔ لیکن جو کتابیں اسلام کی توضیح وتعبیر کے مو ضوع پر لکھی گئی ہیں وہ تقریباً سب کی سب کنفیوزن کا شکار ہیں۔ قاری ان کتابوں کو پڑھتا ہے لیکن وہ اس طرح ان کو ختم کرتا ہے کہ ان کے ذریعہ قاری کو کوئی بصیرت حاصل نہیںہوتی-
اس کنفیوزن کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ تمام حضرات اپنے تجزیہ (analysis) میں ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنے کے اصول (principle of differentiation) نہیں جانتے ہیں- وہ اس فرق کو ملحوظ رکھے بغیر سوچتے ہیں اور اس فرق کو ملحوظ رکھے بغیر لکھتے ہیں۔ اس اصول کو قرآن میں فرقان (8:29)کہاگیا ہے۔ میرے تجربہ کے مطابق، موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مقرر اور محرر فرقان کی حکمت سے بے خبر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تقریر اور تحریر میں ہمیشہ کنفیوزن رہتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مثلاً تفکیر کے موضوع پر کلام کرتے ہوئے مبنی بر قلب مراقبہ (heart-based meditation) اور مبنی بر ذہن تفکیر (mind-based contemplation) کے فرق کو نہ سمجھنا- فرد (individual) کی اصلاح اور سماجی نظام (social system)کی تعمیر کے درمیان فرق کو ملحوظ نہ رکھنا۔ مسائل دنیا اور مسائل آخرت کے تقاضوں کے درمیان جو نوعی فرق ہے، اس کو سمجھے بغیر اس موضوع پر اظہار خیال کرنا۔ طبیعیاتی سائنس کے موضوع اور انسانیات (humanities)کے موضوع کے درمیان جو بنیادی فرق ہے اس سے گہری واقفیت کے بغیر ان موضوعات پر لکھنا اور بولنا، وغیرہ-
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ فرقان (principle of differentiation) کو نہ جانتے ہوں ان کو صرف معلوماتی موضوع پر لکھنا اور بولنا چاہئے- ان کو ہر گز تفکیری موضوع پر کلام نہیں کرنا چاہئے- ایسا کرکے وہ اپنے قاری کو صرف کنفیوزن دیں گے وہ اپنے قاری کو واضح رہنمائی دینے سے قاصر رہیں گے۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ مسلم دانشور کا مسئلہ بھی وہی ہے جو ان سے پہلے ڈاکٹرمحمداقبال کا مسئلہ تھا۔ دونوں ایک ہی مسئلہ کا شکار ہوئے۔ یعنی اپنے خود ساختہ ماڈل کی بنا پر مسئلہ کو غلط رخ (wrong angle) سےدیکھنا۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے انسان ساز فلسفیانہ ماڈل کو لے کر اسلام کو سمجھنا چاہا جو اصلاً فطرت خداوندی پر مبنی تھا- اس عدم مطابقت کی بنا پر ڈاکٹر محمد اقبال اس مسئلہ کی صحیح تشریح وتعبیر کرنے میں ناکام رہے۔
مذکورہ مسلم دانشور کا کیس یہ ہے کہ وہ اصلاً علم اقتصادیات (economics) کے آدمی ہیں۔ اقتصادیات کا علم انسانی زندگی کے نظامی پہلو (infrastructural aspect) سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ دوبارہ ایک انسان ساز علم ہے۔ اس بنا پر مذکورہ مسلم دانشور کا ذہن مبنی بر نظام ذہن بن گیا۔وہ اسلام کی تعبیر اپنےنظامی ماڈل کی روشنی میں کرنے لگے۔ جب کہ اسلام کا ماڈل مختلف تھا- علم الاقتصاد کے تحت جو ماڈل بنتا ہے، وہ مبنی بر نظام ماڈل (system-based model) ہے، جب کہ اسلام ایک مبنی برفرد مذہب ہے۔ اسلام کا ماڈل مبنی بر فرد ماڈل (individual-based model) ہے- اس عدم مطابقت کی بنا پر مذکورہ مسلم دانشور اس مسئلہ کی صحیح تعبیر وتشریح میں ناکام رہے۔
اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ مذکورہ مسلم دانشورنے لکھا ہے کہ نیورو سائنس (neuroscience) کے نئے ابھرتے ہوئے ماہرین شاید اس معاملہ میں ہماری مدد کرسکیں۔ مگر یہ بات زیر بحث مسئلہ سے بالکل غیر متعلق (irrelevant) ہے- نیورو سائنس کیا ہے- نیورو سائنس انسان کےاعصابی نظام کے سائنسی مطالعہ کا نام ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
"Neuroscience is the scientific study of the nervous system"
زیر بحث مسئلہ کا تعلق مسائل حیات کی توجیہہ (explanation) سے ہے۔ اور یہ ایک معلوم بات ہےکہ سائنس کا کام توجیہہ کرنا نہیں ہے بلکہ صرف فطرت کے عمل کو دریافت کرنا ہے:
Neuroscience deals with the functioning of the mind.
زیر بحث مسئلہ سے انسانی ذہن کا تعلق واضح ہے لیکن یہاں جو مسئلہ ہے وہ مائنڈ کے فکری انطباق کا مسئلہ ہے نہ یہ کہ ذہن فزیکل معنوں میں کس طرح عمل کرتاہے۔
It is a question of the application of the mind, not the functioning of the mind.
مذکورہ مسلم دانشورکے مقالہ میں کنفیوزن کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تعلیم کے زمانے میں موصوف کا سبجیکٹ معاشیات (economics)تھا۔ انھوں نے اسی سبجکٹ میں اعلی تعلیم حاصل کی اور اپنی پوری زندگی اسی سبجکٹ کا مطالعہ کرتے رہے۔ جیسا کہ معلوم ہے معاشیات ایک ایسا سبجکٹ ہے جس میں نظام (system)کے پہلو سے زندگی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ ہوا کہ موصوف کے ذہن میں نظامی ماڈل (system-based model) بن گیا۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر نظامی ماڈل کو معیاری ماڈل سمجھنے لگے۔
اس کے بعد انھوں نے اپنے اسی ذاتی شاکلہ کی بنیاد پر اسلام کا مطالعہ کیا۔ انھوں نے چاہا کہ وہ اسلام کو ایک نظامی ماڈل (system-based model) میں ڈھال دیں۔مگر اصل حقیقت یہ تھی کہ اسلام ایک مبنی بر فرد ماڈل تھا، نہ کہ مبنی بر نظام ماڈل۔ اس فرق کو نہ جاننے کی بنا پر ان کے افکار میں کنفیوزن پیدا ہوگیا۔