ایک صاحب برطانیہ سے اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں:
آج میں نے مئی 2015 کا اردو الرسالہ انٹرنیٹ پر پڑھنا شروع کیا تو میری نظرایک مضمون ’’مدعو داعی کے دروازے پر‘‘ (صفحہ 11)پر پڑی۔ یہ پڑھتے ہوئے مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آگیا جو آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں- تین سال پہلے مجھے اپنے چند دوستوں کے ساتھ یونان کے ایک شہر کوس (Kos)کی سیاحت کا موقع ملا- کوس میں ہم لوگوں کوایک تاریخی مسجد دکھائی دی تو نماز کے ارادے سےہم لوگ اس میں داخل ہوئے۔ ہم نے دیکھا کہ وہاں کافی تعداد میں غیرمسلم مسجد کی وزٹ کے لیے داخل ہورہے ہیں۔ پھر ادھر ادھر کچھ دیکھ کر نکل جاتے ہیں۔ میں نے وہاں یہ دیکھا کہ مسجد کے امام صاحب وہاں بیٹھے قرآن کی تلاوت کررہے ہیں اور ان کو اس بات کا بالکل احساس نہیں کہ کون آیا کون گیا۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ غیر مسلم خود یہاںآتے ہیں لیکن ہم اپنی بے شعوری کی بنا پر ان کو کچھ پیش نہیں کر پاتے- میں اکثر یہ واقعہ یاد کرکے دکھی ہوتا ہوں اور آج پھر آپ کا مضمون پڑھ کر مجھے پورا منظر یاد آگیا- کاش!مسلمان اس کو سمجھ سکتے اوراپنی دعوتی ذمے داری کو اداکرتے- (ایم حنیف، پرسٹن، برطانیہ)
یہ صرف ایک شہر کی بات نہیں ہے۔ یہی معاملہ پوری دنیا کا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان تقریبا ہر ملک میں بسے ہوئے ہیں۔ ہر جگہ بڑی تعدا د میں سیاح (tourist) آتے ہیں۔ اس طرح ساری دنیا میں مسلمانوں کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنی دعوتی ذمے داری کو اداکریں، اور اللہ کا پیغام تمام انسانوں تک پہنچائیں۔
اس دعوتی ذمے داری کو ادا کرنے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ ہر مسلمان قرآن کا ترجمہ اور اسلامی لٹریچر اپنے بیگ میں رکھے۔ ہر بار جب اس کا سامنا کسی انسان سے ہو تو وہ اس کو قرآن کا ترجمہ اور اسلامی لٹریچر پیش کرے۔ اس معاملے میں اسلامی لٹریچر کی حیثیت سپورٹنگ لٹریچر کی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔