قرآن کی سورہ نمبر 43 میں فطرت کا ایک قانون بیان کیا گیا ہے۔وہ آیت یہ ہے: أَہُمْ یَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّکَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَہُمْ مَعِیشَتَہُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا وَرَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ (الزخرف: 32) کیا یہ لوگ تیرے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں ۔دنیا کی زندگی میں ان کی روزی کو تو ہم نے تقسیم کیا ہے اور ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں ۔ اور تیرے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو یہ جمع کر رہے ہیں ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تخلیق میں یکسانیت (uniformity) نہیں رکھی گئی ہے۔ بلکہ انسانوں کی تخلیق تفاوت (disparity) کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ یعنی کسی انسان کے اندر ایک خصوصیت، اور دوسرے انسان کے اندر دوسری خصوصیت ۔ اس تفاوت کی ایک حکمت ہے۔ اس تفاوت کا مقصددنیا میں انسان کی اجتماعی زندگی کو باہمی انحصار (interdependence) کے اصول پر قائم کرنا ہے۔ یعنی ایک کا کام دوسرے پر منحصر ہونا۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ لوگ اجتماعی زندگی میں مل جل کر رہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے رقیب (rival) نہ بنیں، بلکہ وہ ایک دوسرے کے معاون (supporter) بن کر زندگی گزاریں۔
باہمی انحصار کا یہ معاملہ کسی محدود معنی میں نہیں ہے۔ وہ زندگی کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہے۔ حتی کہ اس میں سیاست اور حکومت بھی شامل ہے۔ ایسی حالت میں سیاسی اپوزیشن (political opposition) کی پالیسی فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ اس کے بجائے جو چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ سیاسی معاونت (political cooperation) کا مزاج۔ یعنی اگر ایک شخص کو پولیٹیکل اتھاریٹی کا درجہ حاصل ہوتا ہے تو دوسرے لوگ اس سے اس کی اتھاریٹی کو چھیننے کی کوشش نہ کریں، بلکہ اس کی اتھاریٹی کو مانتے ہوئے اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ کریں، نہ کہ رقابت کا معاملہ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔