پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانے میں حضرت ابوبکر کو نماز باجماعت کا امام بنایا۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے 17 بارایسا کیا، اور دوسری روایت کے مطابق آپ نے 20 بار ایسا کیا(البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر: 5/235، دارالفکر، بیروت،1978) ۔ یہ فضیلتِ ابوبکر کا معاملہ نہ تھا۔ بلکہ یہ حکمت کی ایک بات تھی۔ اس سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ یہ ایک عام اصول ہے۔ اس کا انطباق (application) پیغمبر کے جاری کیے ہوئے مشن پر بھی ہوتا ہے، اور اسی طرح غیر پیغمبر کے جاری کیے ہوئے مشن پر بھی۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ اور فطرت کا قانون ہمیشہ آفاقی ہوتا ہے۔
کسی مشن کا جو بانی ہوتا ہے، وہ فطری طور پر اس کا قائد (leader) بن جاتا ہے۔ اگر یہ قائد اچانک دنیا سے چلا جائے تو مشن کے اندر ایک ناقابلِ تلافی خلا ہوجائے گا۔ لوگ محسوس کریں گے کہ ٹیم بے قائد (leaderless) ہوگئی ہے۔ اس لیے قائد کوچاہئے کہ وہ اپنے آخری زمانے میں خاموشی کے ساتھ اس پہلو سے ٹیم کی تربیت کرے۔ وہ ٹیم کو اس قابل بنائے کہ قائد جب درمیان سے ہٹ جائے تو ٹیم کی اجتماعیت میں کوئی کمزوری نہ پیدا ہو۔ مشن کی سرگرمیاں قائد کے بعد بھی بدستوراسی طرح جاری رہیں، جس طرح وہ قائد کی موجودگی میں جاری تھیں۔
دانش مند قائد کو چاہئے کہ وہ اپنی موجودگی میں اس اعتبار سے ٹیم کو تیار کرے ۔ وہ ٹیم کو بار بار یہ موقع دے کہ وہ قائد کی مقامی غیر موجودگی کے باوجود مشن کی سرگرمیوں کو انجام دے سکے۔ یہ گویا بالواسطہ قیادت کا طریقہ ہے۔ قائد اگر ٹیم کے درمیان موجود ہو تو وہ براہ راست طور پر اس کی قیادت کرے گا۔ اگر وہ ٹیم کے درمیان موجود نہیں ہے تو گویا کہ وہ بالواسطہ طور پر ٹیم کی قیادت کررہا ہے۔ یہ ایک حکیمانہ طریقہ ہے۔ قائد اور ٹیم دونوں کو اس حکمت سے باخبر ہونا چاہئے۔ تربیت ایک شعوری واقعہ کانام ہے، بے شعوری کے ساتھ کسی ٹیم کی تربیت نہیں ہوسکتی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔