قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے جب انسان کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو فرمایا: إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفَة (2:30) یعنی میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ خلیفہ کا مطلب جانشین یا قائم مقام (successor) ہے، یعنی کسی کی جگہ لے کر اس کی طرف سے اس کا کام کرنے والا۔ اس تشریح کے مطابق اس آیت میں خلیفہ سے مراد خلیفۃ اللہ فی الارض، یعنی زمین میں اللہ کا خلیفہ ہے۔
خلیفہ ایک انسانی زبان کا لفظ ہے۔ انسانی تصور کے مطابق خلیفہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان کی وفات کے بعد دوسرا انسان اس کی جگہ آکر اس کی قائم مقامی کرے۔ خلیفہ کا یہ مفہوم انسان کے اعتبار سے ہے۔ جب یہ لفظ اللہ کی نسبت سے بولا جائے تو یہاں موت کے بجائے غیب مراد ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ جو غیب میں ہے اس کی نمائندگی شہود میں کرنا۔اس آیت میں خلافت یا نمائندگی سے مراد سیاسی نمائندگی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان اللہ کا نائب بن کر زمین پر اللہ کی حکومت قائم کرے۔ یہ خلافت اعلان حق کے معنی میں ہے، نہ کہ تنفیذ احکام کے معنی میں۔ اس اعلان سے مراد وہی چیز ہے، جس کو فرشتوںنے تحمید اور تقدیس (2:30) کے الفاظ میں بیان کیا تھا۔ اللہ کی تحمید اور تقدیس ایک اعلی ترین مقصود ہے جس کو کائنات کی ہرچیز ودیعۃً (inherently) کر رہی ہے۔ اب اللہ کو منظور ہوا کہ یہ کام انسان ذاتی دریافت (self discovery) کے طور پر کرے۔
کائنات میں انسان ایک خصوصی تخلیق کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں اللہ کی آیات کی تبیین آفاق و انفس (43:53) کی زبان میں کی جائے گی۔ اللہ کو مطلوب تھا کہ ایک مخلوق ہو جو ذاتی دریافت کی سطح پر اس تحمید و تقدیس کا اظہار کرے۔
تحمید و تقدیس سے مراد محض تعریف نہیں ہے، بلکہ کائنات کی سطح پر حقیقت ربانی کا اعلان کرنا ہے، یعنی تخلیق (creation) کو خالق کے خانے میں ڈالنا۔ براہ راست طور پر یہ کام مومن کو انجام دینا ہے، لیکن بالواسطہ طور پر ساری انسانیت کو اس کے حق میں تائیدی رول ادا کرنا ہے، حتی کہ غیر اہل ایمان کو بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔