Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala August 2015
Al-Risala August 2015

توحید اور عدل

Urdu · 2 min read

اسلام کے دو بنیادی اصول ہیں— توحید اور عدل۔ توحید کا مطلب ہے خالق کو ہر اعتبار سے ایک ماننا۔ کسی بھی اعتبار سےکسی اور کو اس کا شریک (partner)نہ بنانا۔ عدل کا مطلب ہے معاملات میں انصاف (justice) کا طریقہ اختیار کرنا۔ کسی بھی عذر (excuse) کی بنا پر انصاف کے طریقے سے نہ ہٹنا۔ اس انصاف کا تعلق انسان کے قول سے بھی ہے، اور اس کے عمل سے بھی۔

توحید اور عدل دونوں لازم کے معنی میں ہیں، ان میں سے کوئی بھی متعدی کے معنی میں نہیں۔ یعنی دونوں کا تعلق فرد کے رویہ سے ہے۔ فرد سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کامل معنوں میں موحّد بنے، اس کی آئڈیالوجی مکمل طور پر توحید (oneness of God) پر مبنی ہو ۔ عدل کا مطلب ہے ایک فرد کا انصاف پر قائم ہونا۔ اس کا قول منصفانہ قول ہو، اس کا عمل تمام تر انصاف پر مبنی ہو۔ توحید کا لفظ انسان کے عقیدہ (belief) کو بتاتا ہے، اور عدل کا لفظ انسان کے سماجی رویہ (social behaviour) کو۔

یہ دونوں الفاظ پیروی کے معنی میں ہیں، نہ کہ نفاذ کے معنی میں۔ جس طرح توحید ذاتی طور پر اختیار کرنے کی چیز ہے، وہ دوسروں کے اوپر نافذ (impose) کرنے کی چیز نہیں۔ یہی معاملہ عدل کا بھی ہے۔ عدل کا مطلب بھی یہی ہے کہ آدمی جن انسانوں کے درمیان رہتا ہے، ان کے ساتھ وہ ہمیشہ انصاف کا طریقہ اختیار کرے، وہ ہر حال میں ناانصافی سے بچے۔

اسلامی مشن کا نشانہ فرد (individual) ہے، نہ کہ نظام (system)۔ اسلام کا مقصد انسان کو اسلامائز کرنا ہے ، نہ کہ سسٹم کو اسلامائز کرنا۔ اس دنیا کے خالق نے انسان کو امتحان (test) کے لیے پیدا کیا ہے۔ ہر آدمی کا یہ امتحان ہے کہ وہ اپنی آزادی کو کس طرح استعمال کرتا ہے، صحیح طور پر یا غلط طور پر۔ اگر اسلام کی تعلیمات کو طاقت کے ذریعےبزور نافذ کیا جائے تو امتحان کا ماحول ختم ہوجائے گا۔ امتحان کا مقصد صرف اس وقت پورا ہوسکتا ہے، جب کہ لوگوں کو آزادی ہو، اور یہ دیکھا جاسکے کہ انھوں نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا یا غلط استعمال کیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.