موجودہ زمانے کا ایک معروف کلچر وہ ہے جس کو سروے کلچر (survey culture) کہاجاتاہے- موجودہ زمانے میں لوگوں کی رائے جاننے کے لیے ہر چیز کا سروےکیا جاتاہے- نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (24 اپریل 2013) میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے- اس میں بتایا گیاہے کہ انگلینڈ میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق، ساری (sorry) کا لفظ بولنا لوگوں کے لیے ایک بے حد مشکل کام ہوتا ہے:
‘Sorry’ is the hardest word to say.
اسلام میں کچھ چیزیں واضح طورپر حرام قرار دی گئی ہیں- یہ گویا وہ چیزیں ہیں جو کہ محرَّم حرام (declared haram) کی حیثیت رکھتی ہیں- مگر ان کے سوا کچھ چیزیں اور ہیں جو اگرچہ شرعی زبان میں حرام نہیں قرار دی گئی ہیں، لیکن وہ سخت طور پر غیر مطلوب ہیں- اِنھیں غیر محرّم چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی کھلے طورپر اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے- اسلامی تعلیمات کے مطابق، غلطی کا اعتراف نہ کرنا آدمی کے اندر کمزور شخصیت پیدا کرتا ہے، اور کمزور شخصیت اور حرام شخصیت کے درمیان صرف قانون کے اعتبار سے فرق ہے، حقیقت کے اعتبار سے، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں-
اِسی طرح سطحیت، بے اصولی، بدذوقی اور غیر سنجیدگی جیسی چیزیں بھی سب کی سب غیر محرّم حرام کی حیثیت رکھتی ہیں- اِس طرح کی عادتوں کے ذریعے آدمی کے اندر غیر جنتی شخصیت بنتی ہے- موجودہ دنیا میں کسی عورت اور مرد کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنے اندر مزکّیٰ شخصیت بنائے- اِسی مزکّیٰ شخصیت کو آخرت کی زندگی میں جنت میں جگہ ملے گی- یہ مزکی شخصیت صرف حرام چیزوں کے پرہیز سے نہیں بنتی، بلکہ وہ اُس وقت بنتی ہے جب کہ اِس معاملے میں انسان اتنا زیادہ حساس ہوجائے کہ وہ غیر محرم حرام سے بھی شدت کے ساتھ پرہیز کرنے لگے(لایبلغ العبد أن یکون من المتقین، حتى یدع مالا بأس بہ حَذَراً مما بہ بأس)-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔