فرنچ فلاسفر والٹیر (Voltaire) 1694 میں پیدا ہوا- آخر عمر میں اس کو سمومیتِ بول (urania) کی بیماری ہوگئی- وہ شدید تکلیف کی حالت میں 1778 میں مرگیا- اُس کا ایک قول یہ ہے — زندگی ایک تباہ شدہ جہاز کی مانند ہے، مگر ہمیں لائف بوٹ کے استعمال کو بھولنا نہیں چاہئے:
Life is a shipwreck, but we must not forget to sing in the lifeboats.
حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں کبھی مواقع ختم نہیں ہوتے- ایک موقع (first chance)جب ختم ہوتاہے تو اس کے فوراً بعد دوسرا موقع آجاتا ہے- ناکامی یہ ہے کہ آدمی ایک موقع کھونے کے بعد دوسرے موقع (second chance) کو دریافت نہ کرسکے-
زندگی غیر متوقع حالات سے بھری ہوئی ہے- زندگی میں بار بار ایسے تجربات پیش آتے ہیں جن کی بابت آدمی نے پہلے کبھی سوچا بھی نہیں تھا- اس بنا پر آدمی کا ہر منصوبہ ناقص ثابت ہوتاہے- اِس لیے ضروری ہے کہ آدمی بار بار اپنے منصوبے پر نظر ثانی کرے-
اِس صورتِ حال کی تلافی کے لیے خالق نے دنیا کو امکانات اور مواقع سے بھر دیا ہے- آدمی کو چاہیے کہ جب وہ کسی ناکامی سے دوچار ہو تو وہ اپنی ناکامی کو تجربے کے خانے میں ڈال دے اور نیا راستہ تلاش کرکے اپنے سفر کو جاری رکھے- ناکامی صرف ناکامی نہیں، ناکامی آپ کی شخصیت کے ارتقاکا ذریعہ ہے- ناکامی آپ کوزیادہ دانش مند بناتی ہے- ناکامی آپ کی سنجیدگی میں اضافہ کرتی ہے- ناکامی آپ کو زیادہ پختہ انسان بنانے والی ہے- ناکامی زیادہ بڑی کامیابی کا دروازہ کھولنے والی ہے-
انسان کی سب سے بڑی طاقت اس کی عقل ہے - عقل کو استعمال کرکے آدمی ہر مسئلے کا حل دریافت کرسکتا ہے، یہاں تک کہ ایسے مسئلے کا حل بھی جو بظاہر خاتمہ کے ہم معنی ہو، جس کے بعد کوئی امکان نظر نہ آتا ہو- ہمت کو ہمیشہ باقی رکھیے اور پھر عقل ہر صورتِ حال میں آپ کی رہنما بن جائے گی-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔