مشہور سائنس داں البرٹ آئن اسٹائن (وفات: 1955 ) نےکہا تھا کہ —انسانی زندگی بائیسکل چلانے کی مانند ہے- اپنا توازن برقرار رکھو اور تم محفوظ طورپر اپنی منزل پر پہنچ جاؤگے:
Life is like driving a bicycle. Maintain your balance and you will safely reach your destination.
یہ قول بہت با معنى ہے- اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو دوطرفہ تقاضوں کے درمیان عمل کرنا ہوتاہے- ایک طرف، اس کا اپنا ارادہ اور دوسری طرف، خارجی حالات-
موجودہ دنیا میں کسی کا میابی کے حصول کے لیے دونوں تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے- اگر ارادہ ہو، لیکن خارجی حالات کی موافقت موجود نہ ہو تو کامیابی ممکن نہیں-
اِسی طرح اگر خارجی حالات کی موافقت ہو، لیکن ارادہ موجود نہ ہو، تب بھی کامیابی ناممکن ہوجائے گی-آدمی کو چاہئے کہ جب بھی وہ اپنے کسی منصوبے کی تکمیل کرنا چاہے تو ہمیشہ وہ حالات پر پوری نظر رکھے- وہ ایسا نہ کرے کہ وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلنے لگے- وہ ایسا نہ کرے کہ وہ کسی ایک پہلو کو نظر انداز کرکے دوسرے پہلو کی طرف بہت زیادہ جھک جائے-وہ ایسا بھی نہ کرے کہ وہ اپنا زیادہ اندازہ (overestimation) کرے اور حالات کا کم تر اندازہ (underestimation) کرنے لگے- اِس قسم کی کوئی بھی غلطی اس کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہے-آدمی اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک انتہا پسند مخلوق ہے- آدمی اکثر ایسا کرتا ہے کہ وہ ایک پہلو کی طرف اِس طرح جھک جاتا ہے کہ وہ دوسرے پہلو کی رعایت کرنے سے قاصر ہوجاتاہے- اِس قسم کے عدم توازن کے ساتھ کسی شخص کا اِس دنیا میں کامیاب ہونا ممکن نہیں-
توازن بلاشبہہ ایک اہم اصول ہے، لیکن توازن سے مراد عملی معاملات میںتوازن کا طریقہ اختیار کرنا ہے، نہ کہ فکری اور نظریاتی معاملات میں توازن کا طریقہ اختیار کرنا- نظری معاملات میں آدمی کا نشانہ آئڈیل ہونا چاہئے، لیکن عملی معاملات میں اس کو پریکٹکل بن جانا چاہیے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔