← Al-Risala August 2013Al-Risala August 2013
سوال وجواب
Urdu · 6 min read
میں ایک جدید تعلیم یافتہ مسلمان ہوں۔ میں پانچ وقت نماز پڑھتا ہوںاورروزہ بھی رکھتا ہوں، لیکن یہ تراویح جو ہر سال پڑھی جاتی ہے، اس کا کوئی فائدہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔براہِ کرم، اِس کی وضاحت فرمائیں- (ایک قاری، الرسالہ، نئی دہلی)
تراویح کوئی رسم نہیں ہے۔تراویح دراصل، قرآن کا اجتماعی مطالعہ (collective study) ہے۔ تراویح کا مطلب یہ ہے کہ نماز کی حالت میں کھڑے ہو کر قرآن کو سنا جائے اور اس کا اجتماعی مطالعہ کیا جائے۔تراویح کی بہترین صورت یہ ہے کہ کسی دن قرآن کا جو حصہ پڑھا جانے والا ہو، تمام نمازی پیشگی طورپر قرآن کے اُس حصے کا ترجمہ پڑھیں اور اس کے مضمون کو اپنے ذہن میں بٹھائیں۔ اِس کے بعد وہ مسجد میں جاکر تراویح پڑھیں۔ اِس طرح جب وہ تراویح پڑھیں گے تو وہ قرآن کو متوجہ ہو کر سنیں گے بھی اور اُس پر غور بھی کریں گے۔ یہ اُن کے لیے قرآن کا ایک اجتماعی مطالعہ ہوگا جس سے انھیں غیرمعمولی فائدے حاصل ہوں گے۔حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب زیادہ لوگ جمع ہو کر اللہ کا ذکر کریں اور اللہ کا چرچا کریں تو اُس وقت وہاں فرشتے بہت زیادہ تعداد میں آجاتے ہیں۔ فرشتوں کی آمد سے اُس مقام پر ایک روحانی ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ تراویح، اِسی قسم کا ایک اجتماعی ذکر اور اجتماعی مطالعہ قرآن ہے۔ اُس کو اگر صحیح طورپر انجام دیا جائے تو اُس سے غیر معمولی فوائد حاصل ہوںگے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن میںاللہ کا ارشاد ہوا ہے: وَیَسْــــَٔـلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا (17:85) - آپ ’’تذکیر القرآن‘‘میں مذکورہ آیت کی تشریح کرتےہوئے لکھتےہیں کہ: ’’یہاںروح سے مراد وحی الہی ہے- عرب کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا، وہ وحی والہام کے منکر نہ تھے- اس سوال کا رخ ان کے نزدیک، رسول اللہ کی بے خبری کی طرف تھا، نہ کہ حقیقةً اپنی بے خبری کی طرف‘‘ (صفحہ: 792) -آپ نے روح سے مراد ’’وحی الہی‘‘ لیا ہے، لیکن صحیح ترین روایات اور مفسرین کی تشریحات کی رو سے یہ تشریح درست نہیں- مثال کے طورپر ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ’’حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ یہودیوں نے پیغمبرسے روح کی بابت سوال کیا کہ اسے جسم کے ساتھ عذاب کیوں ہوتا ہے، وہ تو اللہ کی طرف سے ہے- چوں کہ اس بارے میں کوئی وحی آپ پر نہیں اتری تھی، اِس لیے آپ نے ان سے کچھ نہ فرمایا- اسی وقت آپ کے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور مذکورہ آیت اتری (جلد سوم، صفحہ 220) مولانا عبد الماجد دریابادی نے اپنی تفسیر(تفسیر ماجدی) میں سورہ بنی اسرائیل کی اس آیت کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’روح سے مراد روح انسانی ہے جو انسان کا سبب حیات ہے:فی ہذہ الآیةأقوال- أظہرہا أن المراد من الروح الذی ہو سبب الحیاة (کبیر، جلد سوم، صفحہ: 72)- امید ہے کہ اس اشکال پر غور فرمائیں گے اور اپنے جواب سے مطلع کریں گے- (شاہد جمیل، کلکتہ)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِس آیت میں ’’روح‘‘ سے مراد کیا ہے، اِس میں اختلاف ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، تفسیر القرطبی ) قرآن میں ایک سے زیادہ مقامات پر روح کا لفظ وحی کے معنی میں آیا ہے- اِسی کو ہم نے اختیار کیا ہے- مثال کے طور پر ملاحظہ ہو سورہ المومن (40) کی آیت نمبر 15-
عرض ہے کہ آپ کی فکر انگیز تحریروں کا مطالعہ 1986 سے مسلسل کررہا ہوں اور دعوتی کام میں بھی مصروفِ عمل ہوں- آپ سے اس خط کے ذریعے کچھ ذہنی اشکالات کا فوری ازالہ چاہتا ہوں- اُمید ہے کہ آپ جواب مرحمت فرماکر میرے ان اشکالات کو دور کریں گے-
1- آپ دعوتی نقطہ نظر سے اکثر reasoning پر بہت زور دیتے ہیں، لیکن قرآن میں بہت سارے واقعات beyond reasoning ہیں- مثلاً اصحابِ کہف کا واقعہ، حضرت سلیمان کے واقعات، حضرت عیسی کے واقعات، وغیرہ- میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم اسلام کے تمام حقائق کو reason-based تصور کریں یا بنانے کی کوشش کریں تو کیا پورے اسلامی ڈھانچے پر شک پیدا نہیں ہوگا- اِسی طرح آپ نے لکھا ہے کہ حُب شدیدکا تعلق صرف اللہ سے ہوتا ہے کسی اور سے نہیں- (الرسالہ، مئی 2013) اِس سے یہ نتیجہ اخذ ہورہا ہے کہ پیغمبر کے ساتھ بھی اگر حب شدید ہو تو یہ مشرکین کا طریقہ ہے اور بالفاظِ دیگر یہ خدا کا حصہ پیغمبر کو دینے جیسا ہے- عرض ہے کہ جب اللہ تعالی نے رسول کی اطاعت کو اپنی اطاعت ٹھہرایا (4:80) اور سورہ الفتح میں فرمایا کہ ’’جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں، وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کرتے ہیں‘‘ (48:10) -تو رسول کے ساتھ محبت درحقیقت اللہ ہی سے محبت کیوں نہیں ہے— مزید اللہ کے رسول کے ساتھ حُبّ شدید کی ممانعت ہوتی یا یہ مشرکوں کا طریقہ ہوتا تو حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اِس کی بات کیوں کرتے- ’’میری امت میں مجھ سے شدید محبت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد پیدا ہوں گے-اُن میں سے ہر ایک کی خواہش ہوگی کہ کاش، وہ مجھے دیکھتا اور اپنے اہل وعیال اور اپنے مال کو فدا کرتا‘‘-
quoted sourceQuoted from another author or source
بخاری اور مسلم میں یہ حدیث درج ہے جس میں اللہ اور رسول کی محبت کو ایک ساتھ بریکیٹ کیا ہوا ہے:’’تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں وہ ہوں، اُسے ایمان کی حلاوت نصیب ہوگی— یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اُسے تمام ما سوا سے زیادہ محبوب ہوں‘‘ (أن یکون اللہ ورسولہ أحب إلیہ مماسواہما) آپ نے الرسالہ، مئی 2011 میں وطن کے ساتھ محبت کو ایک قول سے استدلال کرکے اس کو ایمان واسلام کا تقاضا ثابت کیا ہے- اِس لحاظ سے رسول کی محبت یا دوسرے لفظوں میں رسول سے شدید قلبی تعلق کیسے مشرکانہ طریقہ بن جاتا ہے جب کہ صحابہ کے واقعات شاہد ہیں کہ ان کو پیغمبر کے ساتھ جو شدید قلبی تعلق تھا، وہ کبھی اللہ کی محبت اور اللہ کی عظمت میں آڑے نہیں آیا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
3- آپ نے الرسالہ میں ایک بار لکھا تھا کہ آپ کے عقائد وہی ہیں جو اہلِ سنت والجماعت کے ہیں، لیکن ’’نزول عیسی‘‘ اور ’’شفاعت‘‘ کے عقیدے کے متعلق آپ کی رائے مختلف ہے-کیا آپ کے ان دونوں عقیدوں پر یہ رائے حتمی ہے یا جس طرح دابة الأرض کے بارے میں آپ کی رائے تبدیل ہوگئی ہے، اِن دو عقیدوں کے بارے میں بھی آپ کی رائے تبدیل ہوسکتی ہے- آپ سے گزارش ہے کہ براہِ کرم، ان اشکالات کا جواب دے کرمیری رہنمائی فرمائیں- (الطاف حسین، کشمیر)
1- موجودہ زمانے کو ایج آف ریزن (age of reason) کہاجاتا ہے- موجودہ زمانے کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جو بات کہی جائے، وہ عقل پر مبنی (reason-based) ہو- تاہم عقلی استدلال کی دوسطحیں ہیں— ایک ہے مشاہداتی استدلال اور دوسرا ہے- استنباطی استدلال- اگر استنباطی استدلال کو شامل کرلیا جائے تو کوئی بھی چیز عقلی استدلال سے باہر نہیں رہتی- آپ نے جن تین چیزوں کا حوالہ دیاہے، وہ بھی استنباطی استدلال کے دائرے میں پوری طرح شامل ہیں-استنباطی استدلال کا مطلب یہ ہےکہ ایسی چیز کے ذریعے استدلال کرنا جو اگر چہ براہِ راست دلیل نہ ہو، لیکن استنباط (inference) یا احتمال (probability)کے ذریعے وہ زیر بحث امر کو مدلل کررہی ہو- تفصیل کے لیے حسب ذیل کتابیں ملاحظہ فرمائیں:
The Mysterious Universe by Sir James Jeans- 1930
The Encyclopaedia of Ignorance by Ronald Duncan & Miranda Weston-Smith- 1977
other sourceWords of another person or source
2- حبّ شدید مطلق طورپر صرف ایک ذات سے مطلوب ہے اور وہ اللہ رب العالمین کی ذات ہے- دوسروں سے محبت ہونا بھی فطری ہے، لیکن وہ محبت بالذات نہیں ہوتی، بلکہ وہ صرف بالواسطہ محبت ہوتی ہے- (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، جون 2008، صفحہ: 2-3)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
3- اہلِ سنت والجماعت سے وابستگی کا مطلب یہ نہیںہے کہ کسی مسئلے پر اختلاف نہ ہو- اہلِ سنت والجماعت سے وابستہ ہونے کے باوجود رائے کا اختلاف فطری ہے- مثلاً چاروں فقہا یقینی طورپر اہلِ سنت والجماعت میں شامل ہیں، لیکن اُن کے درمیان بہت سے مسائل میں اختلافِ رائے پایاجاتا ہے-