Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Al-Risala August 2012
Al-Risala August 2012

شبِ قدر

Urdu · 6 min read

رمضان کا مہینہ ہجری کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے۔ اِس مہینے میں اہلِ ایمان کے لیے روزہ رکھنے کا حکم ہے(2: 183)۔ رمضان کے مہینے کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی رات میں شبِ قدر واقع ہوتی ہے۔ شبِ قدر کو قرآن میں ’لیلۃ القدر‘ کہاگیا ہے۔ یہ ’لیلۃ القدر‘ دوسری ہزار راتوں سے زیادہ بہتر ہے۔ شبِ قدر کا ذِکر قرآن کی سورہ القدر(97) میں آیا ہے۔ اِس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: ’’بے شک ہم نے قرآن کو اتارا ہے شبِ قدر میں۔ اور تم کوکیا جانو کہ شبِ قدر کیا ہے۔ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کی اجازت سے اترتے ہیں، ہر حکم لے کر۔ وہ رات سرتا سر سلامتی ہے، صبح نکلنے تک‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ 610 ء کی ایک رات تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے قریب غارِ حرا میں موجود تھے۔ اُس وقت جبریل، قرآن کی پہلی وحی لے کر آپ کے پاس آئے۔ یہ پہلی وحی سورہ العلق(96) کی ابتدائی پانچ آیتیں تھیں۔ قرآن کا نزول خدا کی عظیم رحمت کا نزول تھا، اِس لیے اُس رات کو ایک یادگار رات قرار دیا گیا۔

شبِ قدر کے موقع پر خدا اپنے سالانہ فیصلے فرماتا ہے۔ اِس لیے یہ رات ذکر اور دعا اور عبادت اور تلاوت کی رات قرار دی گئی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کو اِس موقع پر زیادہ سے زیادہ خدا کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ دعا کرناچاہیے، تاکہ خدا کے سالانہ فیصلوں میں اُس کو خدا کی رحمت میں زیادہ سے زیادہ حصہ ملے۔ وہ خدا کے نزدیک زیادہ سے زیادہ انعام کا مستحق قرار پائے۔

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں رمضان کی آخری راتوں میں اعتکاف میں تھا، اُس وقت مجھ پر شبِ قدر کا علم اُتارا گیا۔ میںمسجد سے باہر نکلا، تاکہ میں تم کو شبِ قدر کے وقت کے بارے میں بتا دوں، لیکن اُس وقت مدینہ کے دو مسلمان آپس میں لڑ گیے، اِس کے بعد شبِ قدر کا علم اٹھا لیا گیا(فتلاحیٰ رجُلان من المسلمین، فرُفعت) صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1919۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شبِ قدر کی خصوصی رحمتوںمیں حصّے دار بننے کے لیے کیا چیز ضروری ہے، وہ چیز یہ ہے کہ آدمی کے اندر لڑائی جھگڑے کا مزاج نہ ہو۔ اُس کا دل نفرت جیسے منفی جذبات سے خالی ہو۔ اُس کا ذہن پوری طرح مثبت انداز میں سوچنے والا ہو۔ جو عورت یا مرد اپنے اندر اِس قسم کی مثبت شخصیت رکھتے ہوں، انھیں کو شبِ قدر کی رحمتوں میں حصہ ملے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں شبِ قدر کو پاؤں تو میں کیا دعا کروں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اِس طرح کہو: اللہم إنک عفوٌّ تحبّ العفو، فاعفُ عنی (سنن التّرمذی، رقم الحدیث: 3513 ) یعنی اے اللہ، تو سرتا پا معافی ہے اور تو معافی کو پسند کرتا ہے، پس تو مجھے معاف فرما۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ حدیث بتاتی ہے کہ شبِ قدر میںآدمی کے اندر سب سے زیادہ طلب کس چیز کی ہونا چاہیے، وہ یہ کہ آدمی موت کے بعد آنے والی ابدی زندگی کی کامیابی کا حریص ہو۔ وہ اللہ سے یہ درخواست کرے کہ — خدایا، تومیری غلطیوں اورکوتاہیوں کو معاف فرما، آخرت کی ابدی زندگی میںتو مجھے دوزخ سے بچا، اور جنت کے باغوں میں تو مجھے جگہ عطا فرما۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کے مطابق، شبِ قدر میںکثرت سے خدا کے فرشتے اترتے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدا شبِ قدرکی صورت میں ہر عورت اور مرد کو یہ موقع دیتاہے کہ وہ فرشتوں کا ہم نشیں بنے۔ وہ فرشتوں سے ایسی روحانی غذا لے جس کے نتیجے میں اُس کا دل سلامتی کے جذبات سے بھر جائے۔ وہ منفی جذبات اور دنیا پرستی سے اوپر اٹھ جائے اور حقیقی معنوں میں وہ خدا کا طالب بن جائے۔ ایسا ہی دل و دماغ رکھنے والے لوگ شبِ قدر کے موقع پر خدا کی خصوصی رحمتوں میں حصے دار بنیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

شبِ قدر ایک اعتبار سے شبِ امن ہے۔ جس عورت یا مرد کو شبِ قدر کی رحمتیں مل جائیں، اُس کا دل امن و سلامتی کے جذبات سے بھر جائے گا۔اس کی سوچ پُر امن سوچ ہوگی۔ اس کی گفتگو پُر امن گفتگو ہوگی۔ اس کا کردار پُر امن کردار ہوگا۔ اس کا طریقہ پُرامن طریقہ ہوگا۔ اس کی پوری شخصیت امن پسند شخصیت بن جائے گی۔ اس کے ذریعے سے دوسروں کو جو چیز ملے گی، وہ امن ہوگا اور صرف امن۔

قرآن: کتابِ قدر

قرآن کی سورہ القدر کی پہلی آیت یہ ہے: إنّا أنزلناہ فی لیلۃ القدر (97:1) یعنی ہم نے قرآن کو اتارا ہے قدر کی رات میں۔ اِس آیت میں قدر کا مطلب تقدیر (Destiny) ہے۔ اِس آیت میں قدر کی نسبت رات کی طرف کی گئی ہے، مگر حقیقت میں اس کی نسبت قرآن کی طرف ہے، یعنی وہ رات جس میں کتابِ قدر (Book of Destiny) اتاری گئی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن میں انسان کی تقدیر بتائی گئی ہے، یعنی وہ قوانینِ فطرت جو انسان کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والے ہیں، فرد کی تقدیر بھی اور قوم کی تقدیر بھی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ قرآن کے اِن ابدی قوانینِ تقدیر کو معلوم کرے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔

مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے: إن تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدہم شیئاً (3: 120) یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیا رکرو تو دوسروں کی سازش تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے مقرر کئے ہوئے قانونِ حیات کے مطابق، انسان کی طاقت کا سرچشمہ صبر اور تقویٰ ہے۔ کسی فرد یا قوم کا اصل مسئلہ سازشِ غیر کی موجودگی نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اپنے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت موجود نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس قانونِ فطرت کے مطابق، اگر کوئی قوم یہ پائے کہ دوسرے لوگ اس کے خلاف سازش کررہے ہیں تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کا سبب خود اپنے اندر تلاش کرے، نہ کہ اپنے آپ سے باہر۔ اِس طرح کی صورتِ حال میں کسی مفروضہ حریف کے خلاف شکایت اور احتجاج کی تحریک چلانا اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک غیر متعلق (irrelevant) کام ہے۔

اصل یہ ہے کہ ایسے موقع پر خود اپنا جائزہ لیا جائے، صبر وتقویٰ کے اعتبار سے اپنی کمیوں کو تلاش کیا جائے۔ جو لوگ اِس اعتبار سے قرآن کو اپنی زندگی کا رہنما بنائیں، وہی شبِ قدر کی برکتوں کو پائیں گے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content