Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Al-Risala August 2012
Al-Risala August 2012

سوال وجواب

Urdu · 9 min read

آپ نے لکھا ہے کہ جنت کسی کی سفارش سے نہیں ملتی، اگر ایسا ہے تو اِس حدیث کا کیا مطلب ہے کہ میری شفاعت میری اُمت کے گناہِ کبیرہ کرنے والوں کے لئے ہے: شفاعتی لأہل الکبائر من أمتی (مسند أحمد، رقم الحدیث: 13566 )۔ ابھی الرسالہ، جون 2012 کا شمارہ مجھے ملا۔ اُس میں ’’وسیلہ کی حقیقت‘‘ کے عنوان سے آپ کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اِس مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے جنت اور مغفرت حاصل نہیں ہوگی اور اس کو وسیلہ کا نام دینا خود ساختہ مفہوم ہے۔جو شخص اپنے عمل کے اعتبار سے جنتی نہ ہو، وہ پیغمبر کی سفارش سے جنتی نہیں بن جائے گا۔ اگر کوئی شخص شفاعت کا یہ مطلب سمجھتاہے تو یہ مطلب صحیح نہیں ہے۔خلاصہ یہ کہ نہ کسی کو پیغمبر کی سفارش سے جنت اور مغفرت حاصل ہوگی اور نہ کوئی جہنمی شخص پیغمبر کی سفارش سے جنتی بن جائے گا۔یہ تمام تر اللہ کا عطیہ ہے، قرآن اورحدیث دونوں میں اِس بارے میں واضح ہدایات ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں جاننا چاہوں گا کہ قرآن کی کس آیت میں اور حدیث کی کس روایت میں یہ واضح ہدایات موجود ہیں۔ آپ نے شفاعت کا جو مطلب بیان کیا ہے، اُس کی روشنی میں’’شفاعتی لأہل الکبائر من أمتی‘‘ کا مفہوم واضح فرمائیں۔(اے، جے، قادری، امبیڈکر نگر، یوپی)

احادیث کے بارے میں علما کا مسلک یہ ہے کہ جب دو حدیثوں میں تعارض ہو تو ایک حدیث کو لیاجائے گا اور دوسری حدیث کی تاویل کی جائے گی، مسند احمد کی مذکورہ روایت کا معاملہ یہی ہے۔ ایک طرف یہ حدیثہے اور دوسری طرف ایسی کئی روایتیں ہیں جو اِس حدیث کے سراسر خلاف ہیں۔ مثال کے طورپر یہاں اِس سلسلے میں چند حدیثیں نقل کی جاتی ہیں:

1 - ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واللہ ما أدری، وأنا رسول اللہ، ما یُفعل بی، ولابکم(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 7018 ) یعنی خدا کی قسم، میں نہیں جانتا، اگرچہ میں خدا کا رسول ہوں کہ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور کیا کیا جائے گا تمھارے ساتھ۔

hadithQuotes a hadith

2 - عن أبی ہریرۃ قال لمّا نزلت: وأنذر عشیرتک الأقربین۔ جَمََعَ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریشا فخصّ وعَمّ، فقال یا معشر قریش،انقذوا انفسکم من النار، فإنی لا أملک لکم من اللہ ضرًّا ولانفعًا۔ یا معشر بنی عبد مناف، أنقذوا أنفسکم من النار، فإنی لا أملک لکم من اللہ ضرًّا ولا نفعًا۔ یا معشر قُصی، انقذوا أنفسکم من النار، فإنی لا أملک لکم من اللہ ضرًا ولا نفعًا۔ یا معشر بنی عبد المطلب، أنقذوا أنفسکم من النار، فإنی لا أملک لکم من اللہ ضرًا ولا نفعًا۔ یا فاطمۃ بنت محمّد، أنقذی نفسکِ من النار فإنی لا أملک لکِ من اللہ ضرًا ولا نفعًا۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث:3185)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یعنی جب قرآن کی یہ آیت اتری: وأنذر عشیرتک الأقربین(26: 214) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لوگوں کو جمع کیا۔ آپ نے خصوصی طورپر اور عمومی طور پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے قریش کے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، کیوں کہ میں تمھارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کسی ضرر پر قدرت رکھتا اور نہ کسی نفع پر۔ اے بنو عبد مناف کے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، کیوں کہ میں تمھارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کسی ضرر پر قدرت رکھتا اور نہ کسی نفع پر۔اے بنی قُصَی کے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، کیوں کہ میں تمھارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کسی ضرر پر قدرت رکھتا اورنہ کسی نفع پر۔ اے نبو عبد المطلب کے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، کیوں کہ میں تمھارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کسی ضرر پر قدرت رکھتا اور نہ کسی نفع پر۔ اے فاطمہ بنتِ محمد، تم اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، کیوں کہ میں تمھارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کسی ضرر پر قدرت رکھتا اور نہ کسی نفع پر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

3 - عن عائشۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: سدّدوا وقاربوا وأبشروا، فإنہ لایُدخل أحدًا الجنۃَ عملُہ۔ قالوا: ولا أنت یا رسول اللہ۔ قال: ولا أنا، إلا أن یتغمّدنی اللہ بمغفرۃ ورحمۃ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6467) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا رویہ درست رکھو اور میانہ روی پر قائم رہو اور پُر امید رہو، کیوں کہ کسی بھی شخص کو اُس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ لوگوں نے کہا کہ کیا آپ کو بھی نہیں اے خدا کے رسول، آپ نے فرمایا کہ ہاں مجھ کو بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ مجھ کو اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی بات قرآن میں اِن الفاظ میں آئی ہے: لیس للإنسان إلاّ ما سعی (53:39) ۔ اِسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے لیے کچھ نہ کرسکے گا۔ اُس دن سارا معاملہ صرف اللہ کے اختیار میں ہوگا: یوم لا تملک نفسٌ لنفس شیئاً، والأمر یومئذ للہ (82: 19) ۔اِن آیتوں اور اِن حدیثوں سے واضح طورپر معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کا جنت میں داخلہ صرف اپنے ذاتی عمل کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ کسی دوسرے شخص کی سفارش کی بنیاد پر۔ ایسی حالت میں مسلّمہ اصول کی بنیاد پر مذکورہ روایت (شفاعتی لأہل الکبائر من أمتی) یا اِس قسم کی کسی اور حدیثِ شفاعت کی تاویل کی جائے گی۔ وہ تاویل یہ ہے کہ حدیث میں شفاعت سے مراد سفارش (recommendation) نہیںہے، بلکہ شہادت (witness) ہے۔ اِس تاویل کا درست ہونا خود قرآن سے ثابت ہے۔ قرآن کی سورہ الزخرف میں یہ آیت اِس موضوع پر حجتِ قاطع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: ولایملک الذین یدعون من دونہ الشفاعۃَ، إلاّ من شہد بالحق وہم یعلمون(43: 86) یعنی اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، مگر وہ جو حق کی گواہی دیں اور وہ جانتے ہوں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس آیت کی تشریح یہ ہے کہ ’’قیامت میں پیغمبر اور داعیانِ حق جو شفاعت کریں گے، وہ حقیقۃً شفاعت نہیں ہے، بلکہ شہادت ہے، یعنی ایسی بات کی گواہی دینا جس کو آدمی ذاتی طور پر جانتا ہو۔ آخرت میں جب لوگوں کا مقدمہ پیش ہوگا تو سارے علم کے باوجود اللہ تعالیٰ مزید تائید کے طورپر اُن لوگوں کو کھڑا کرے گا جو قوموں کے ہم عصر تھے، انھو ںنے اُن کے سامنے حق کا پیغام پیش کیا، پھر کسی نے مانا اور کسی نے نہیں مانا، کسی نے حق کا ساتھ دیا اور کوئی حق کا مخالف بن کر کھڑا ہوگیا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہی تجربہ جو اُن صالحین پر براہِ راست گزرا، اس کووہ خدا کے سامنے پیش کریں گے۔ یہ ایسا ہی ہوگا جیسے کہ کوئی گواہ عدالت میں اپنے مشاہدے کی بنیاد پر ایک سچا بیان دے۔ اِس کے سوا کسی کو قیامت میں یہ اختیار حاصل نہ ہوگا کہ وہ کسی مجرم کا شافع بن کر کھڑا ہواور وہ اس کے بارے میں اُس خدائی فیصلے کو بدل دے جو از روئے واقعہ اس کے بارے میں ہونے والا تھا۔ خدا اِس سے بہت بلند ہے کہ اُس کے حضور کوئی شخص ایسا کرنے کی کوشش کرے‘‘۔ (تذکیر القرآن، صفحہ :1351 )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

غلوکیا ہے اور غلو کا نقصان کیا ہے۔ براہِ کرم، اس کو واضح فرمائیں ، نیز یہ بتائیں کہ کسی تحریک سے وابستہ افراد اپنی تحریک کو غلو اور فرقہ بندی کی نفسیات سے کس طرح بچا سکتے ہیں۔ (عبد الباسط عمری، دوحہ، قطر)

اسلام میں غلو سے منع کیا گیا ہے۔ یہ ممانعت قرآن میںبھی ہے اور حدیث میں بھی۔ قرآن اور حدیث میںاگرچہ غلو کے لیے حرام کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے غلو کی برائی یقینی طورپر حرام سے کم نہیں۔

غلو کا مطلب حد سے تجاوز کرنا ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو انتہا پسندی (extremism) کہاجاسکتاہے۔ غلو کی دو قسمیں ہیں — اعتقادی غلو، اور عملی غلو۔ دونوں قسم کے غلو کی نوعیت ایک دوسرے سے الگ ہے۔ عملی غلو سے انفرادی مزاج میں بگاڑ آتاہے، لیکن اعتقادی غلو کی برائی اِس سے زیادہ ہے۔ اعتقادی غلو اگربڑھ جائے تو اُس سے نئے نئے فرقے وجود میں آتے ہیں۔

عملی غلو کی ایک مثال یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ ہوائی جہاز سے سفر کرنا سنت کے خلاف ہے اور پھر وہ حج کے لیے پیدل یا اونٹ کے ذریعے سفر کرکے مکہ پہنچے۔ یہ طریقہ ایک شخص کے مزاج میں انتہاپسندی پیدا کرسکتا ہے، لیکن اُس سے کوئی الگ فرقہ نہیں بنے گا۔

اعتقادی غلو زیادہ شدید قسم کا غلو ہے۔ ایک شخص اعتقادی غلو کی بات کرے اور پھر بہت سے لوگ اس کے ماننے والے بن جائیں تو اس سے ایک نیا فرقہ وجود میں آجائے گا۔ مثلاً کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ نبوت کُلّی معنوں میں ختم نہیں ہوئی، زمانے کے بدلنے سے دوبارہ کوئی نبی آسکتا ہے، اور اِس نئے پیغمبر پر ایمان لانا اس کے معاصرین کی نجات کے لیے ضروری ہے۔ اِس طرح کی بات اگر زیادہ لوگ مان لیں تو اس سے دین میں ایک نیا فرقہ وجود میں آجائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

غلو ایک قسم کی بدعت ہے۔ غلو ہر حال میں ایک برائی ہے، لیکن اگر کوئی شخص ایک ایسی سنت کو زندہ کرنے کے لیے کھڑا ہو جو معاصرین کو بظاہر نئی چیز معلوم ہو، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف ایک متروک سنت کا احیا ہو تو ایسی تحریک غلو نہیں۔ مثلاً دعوت الی اللہ کی تحریک ۔ایسی تحریک سے دین میں کبھی کوئی برائی پیدا نہیں ہوگی۔

آپ کے سوال کا دوسرا جُز یہ ہے کہ —کسی تحریک سے وابستہ افراد اپنی تحریک کو غلو اور فرقہ بندی کی نفسیات سے کس طرح بچا سکتے ہیں۔ میرے نزدیک، اِس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ قسم کے غلو اور فرقہ بندی سے بچنا غالباً ممکن نہیں۔ غلو اور فرقہ بندی کی یہ قسم اصلاً دورِ زوال کا ظاہرہ ہے۔ اِسی بنا پر یہود کے اندر بعد کے دور میں فرقے پیداہوئے اور اِسی بنا پر مسیحیوں میں بعد کے دور میں فرقے پیدا ہوئے اور اِسی بنا پر خود امتِ محمدی میں بعدکے دور میں فرقے پیدا ہوئے۔ چوں کہ دورِ زوال لازماً ہر تحریک پر آتا ہے، اِس لیے دورِ زوال میں اِس قسم کے غلو اور فرقہ بندی جیسی چیزیں بھی ضرور پیدا ہوتی ہیں۔ اِس قسم کے غلو اور فرقہ بندی کی پیدائش کو روکنا تو ممکن نہیں ہے، البتہ دوسری چیز ممکن ہے، وہ یہ کہ تحریک کے افراد اِس سلسلے میں بہت زیادہ حساس اور باشعور ہوں۔

چناں چہ جب دورِ زوال میں اس قسم کا غلو پیدا ہو تو اُن کے درمیان ایسے مصلح اٹھیں جو دوبارہ لوگوں کو غلو سے ہٹا کر صراطِ مستقیم پر لانے کی کوشش کریں، وہ اُن کو فرقہ بندی اور شخصیت پرستی کے بجائے دوبارہ حقیقی خدا پرستی کے راستے پر قائم کریں، وہ قرآن اور حدیث کے دلائل کے ذریعے اُن پر یہ واضح کریں کہ اسلام میں جو چیز مطلوب ہے، وہ غلو اور فرقہ بندی نہیں، بلکہ اعتدال اور آفاقیت ہے۔ اِس آفاقی ذہن کے بغیر نہ کوئی مذہبی تحریک کبھی کامیاب ہوسکتی ہے، اور نہ سیکولر تحریک۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content