عزیزم عبد الرحمن چاؤش السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
16 مئی 2012 کو ٹیلی فون پر یہ خبر ملی کہ عزیزہ ام السلام (پیدائش:1950 ) کا انتقال ہوگیا: إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔ مرحومہ میری اولاد میں بلکہ میری پوری فیملی میں سب سے زیادہ نیک خاتون تھیں۔ خاندان کے کسی شخص کو کبھی اُن سے کوئی ناخوش گوار تجربہ پیش نہیں آیا۔وہ پورے معنوں میں صبر وشکر کا پیکر تھیں۔ اپنی صفات کے اعتبار سے وہ بلاشبہہ ایک جنتی خاتون تھیں۔مرحومہ اتنا زیادہ صالح مزاج کی خاتون تھیں کہ وہ نہ کبھی کسی سے فرمائش کرتی تھیں، نہ کسی سے ان کو شکایت ہوتی تھی۔ وہ گھر میں کبھی کوئی پرابلم پیدا نہیں کرتی تھیں۔ وہ کبھی دنیوی باتوں کا چرچا نہیںکرتی تھیں۔ بس اپنی ذمے داری ادا کرنا اور نماز، روزہ کرنا، یہی ان کا مشغلہ تھا۔ صبر، قناعت، سادگی، شکر، یہ سب باتیں ان کی زندگی کا حصہ بن گئی تھیں۔
ام السلام بظاہر میرے دعوتی مشن میں براہِ راست شریک نہ تھیں، مگر وہ برابر اس کے لئے دعا کرتی تھیں۔ میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ میرے تمام بچے، بلکہ بچوں کے بچے بھی میرے دعوتی مشن میں کسی نہ کسی پہلو سے شریک ہیں۔ میں سمجھتاہوں کہ اس میں سب سے زیادہ دخل ام السلام کی دعاؤں کا ہے۔ مرحومہ اس بات کی ایک انوکھی مثال تھیں کہ دعوتی مشن میں شریک نہ ہوتے ہوئے بھی ایک شخص بالواسطہ طورپر دعوتی مشن کے لیے بہت بڑا کام کرسکتا ہے۔ مرحومہ دل سے میرے دعوتی مشن میں شریک تھیں۔ وہ اپنے شوہر محمد عثمان چاؤش (وفات: 2005 ) کے لیے کبھی کوئی مسئلہ نہ بنیں۔ ان کے اِسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ محمدعثمان چاؤش صاحب کو یہ موقع ملا کہ وہ پورے مہاراشٹر میں ہمارے دعوتی لٹریچر کو پھیلا دیں۔ اِس طرح دعوتی مشن میں اُن کی خاموش شرکت کا یہ نتیجہ ہوا کہ ان کی اولادیں سب کی سب، دعوتی مشن میں شامل ہوگئیں۔ وہ مقرر یا محرر نہ تھیں، مگر انھوں نے اپنے صالح مزاج کی بنا پر مقرر اور محرر سے بھی زیادہ بڑا کام کیا۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ میری دعا ہے کہ آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ مرحومہ کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آپ کے گھر میں ان کے جانے سے جو کمی واقع ہوئی ہے، خدا اس کی بھرپور تلافی فرمائے۔
نئی دہلی، یکم جون 2012 دعا گو وحید الدین
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.