ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: ألاإنی أوتیت الکتاب ومثلہ معہ (أبوداؤد: 4604) یعنی سن لو کہ مجھے کتاب (قرآن) دیاگیا ہے اور اسی کے ساتھ اس کا مثل- ایک اور روایت ان الفاظ میں آئی ہے : إنی اوتیت الکتاب ومایعدلہ (صحیح ابن حبان: 12)یعنی مجھے کتاب دی گئی اور وہ جو اس کے برابر ہے-
اس حدیث میں مثلِ قرآن سے مراد قرآن کی تبیین ہے- یہ تبیین، احادیث رسول کی صورت میں مدون ہوکر کتابوں میں موجود ہے- مثلِ قرآن سے مراد وحی غیر متلو ہے، جن کو عام طورپر حدیث کہاجاتاہے- گویا قرآن، قرآن ہے، اور حدیث مثلِ قرآن-
مثلِ قرآن کے الفاظ پر مزید غور کیجئے تو کہا جاسکتا ہے کہ مثلِ قرآن سے مراد تطبیقی قرآن (applied Quran) ہے- قرآن کی صورت میں پیغمبر اسلام کو دین کی اصولی تعلیمات دے دی گئی، لیکن ہمیشہ اجتہاد کی ضرورت رہتی ہے- یعنی روز مرہ کے حالات میں قرآن کی تعلیمات کی موافق حالات تطبیق تلاش کرنا- یہ تطبیق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ خاص نہیں ہے- وہ قیامت تک اہلِ علم کے درمیان جاری رہے گی- تاہم اہل علم کی تطبیق کی حیثیت زمانی ہوگی، نہ کہ ابدی - اگر قرآن کے ساتھ مثلِ قرآن (تطبیق) موجود نہ ہو توقرآن ہر دور کے لوگوں کے لئے رہنما کتاب نہیں بن سکتا-
مثال کے طورپر قرآن میں ایک اجتماعی اصول ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: وَاَمْرُھُمْ شُوْرَی بَیْنَھُمْ ( 42:38) یعنی اور ان کا نظام شورى پر ہے- قرآن کی اس آیت کی تبیین پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں کی ہے: کما تکونون کذلک یؤمّر علیکم (مشکاة المصابیح: 3717) یعنی اجتماعی زندگی کا امیر خود مجتمع کے مشورے سے طے ہوگا- موجودہ زمانے میںاس تطبیق کی مزید توسیع کی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اجتماعی نظم کا فیصلہ جمہوریت (democracy) کے اصول پر بذریعہ انتخاب (election) کیاجائے گا-
اسی طرح ایک اور مثال یہ ہے کہ قرآن میں تیاری کا حکم دیتے ہوئے یہ آیت آئی ہے: وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَااسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ (8:60) یعنی اور ان کے لئے جس قدر تم سے ہوسکے تیار رکھو قوت- اس آیت میں قوت سے کیا مراد ہے- اس سلسلہ میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: ألا إن القوة الرمی، ألا إن القوة الرمی، ألا إن القوة الرمی(صحیح مسلم: 1917) یعنی سن لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے، سن لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے، سن لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے-
مذکورہ حدیث تطبیق کی ایک مثال ہے- اس میں اعداد قوت کی قرآنی تعلیم کو ساتویں صدی عیسوی کے حالات کے اعتبار سے بیان کیاگیا ہے- موجودہ زمانے میں حالات بدل چکے ہیں، اب نئے حالات کے لحاظ سے اعداد قوت کا مطلب ہوگا، اعداد علم- یعنی علم اور سائنس کے اعتبار سے اپنے آپ کو قوی بنانا- آج کی قوت تیر اندازی نہیں ہے، بلکہ وہ علوم ہیں جن کو سائنسی علوم کہاجاتاہے-
قرآن کی یہ تطبیق بھی ایک سنت رسول ہے، جو علمائے اسلام کے لئے ہر دور میں قابل اتباع ہے- ہر زمانے میں قوت کا معیار اور موثر کام کرنے کے طریقے بدلتے رہتے ہیں- قدیم قبائلی کلچر (tribal culture) میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ جنگ کے ذریعہ دبدبہ قائم ہوتا ہے- مگر موجودہ زمانے میں نئے وسائل کے تحت یہ ممکن ہوگیا ہے کہ پر امن طریقہ (peaceful method) کے ذریعہ دبدبہ قائم کیا جائے-یہی معاملہ ادبی اسلوب (idiom)کا ہے- اس اعتبار سے بھی موجودہ زمانے میں نئے نئے اسلوب رائج ہوئےہیں- تطبیق کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ قرآن کی تعلیمات کو آج کے اسلوب میں بیان کیا جائے- مثلاً قرآن میں نقل وحرکت کے ذریعہ دعوت کو سیاحت کہاگیاہے- آج کے اسلوب میں اس کو دعوہ اِن ایکشن (dawah in action) کہاجاسکتا ہے- قرآن اپنے مشن کے اعتبار سے ہمیشہ ایک رہے گا، لیکن اپنی تطبیق (application) کے اعتبار سے اس میں اضافے ہوتے رہیں گے- جیساکہ حدیث میں آیا ہے: لا تنقضی عجائبہ (الترمذی: 2906) یعنی قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔