انسان پیدائش سے پہلے غیر موجود تھا، پھر اللہ نے اس کو پیداکرکے وجود ( 19:9) بخشا- انسان جب پیدا ہو کر سیارۂ ارض (planet earth) پر آتا ہے تو معجزاتی طورپر وہ پاتا ہے کہ یہاں اس کے لئے ضرورت کی ہر چیز موجود ہے- اسی واقعے کو قرآن میںان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَأَتَاکُمْ مِنْ کُلِّ مَا سَأَلْتُمُوْہُ ( 14:34) یعنی اور اس نے تم کو ہر چیز میں سے دیا جو تم نے مانگا-
تخلیق کے بعد یہ انسان کے اوپر خدا کی دوسری رحمت ہے- یہ انوکھی بات ہے کہ انسان کو پیدا ہوتے ہی فی الفور ایک ایسی دنیا مل جاتی ہے، جہاں اس کے لئے تمام سامان حیات پیشگی طورپر موجود ہیں- گویا کہ خالق ہر پیداہونے والے انسان سے یہ کہہ رہاہے کہ اے میرے بندے، جاؤ اور میری دنیا میں آزادانہ طورپر رہو- وہاں تمھارے لئے تمھاری ضرورت (need) کی تمام چیزیں وافر مقدار میں بلا قیمت موجود ہیں- یہی معاملہ مزید اضافے کے ساتھ آخرت کا ہے- آخرت کے دورِ حیات میں انسان کے لئے جو معیاری جنت بنائی گئی ہےاس کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَشْتَہِىٓ أَنفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَدَّعُونَ(41:31) یعنی اور تمھارے لیے وہاں ہر چیز ہے جس کو تمھارا دل چاہے اور تمھارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے-
یہ انسان کے لئےناقابلِ قیاس حد تک ایک عجیب رحمت کا معاملہ ہے-یعنی ایک ابدی نوعیت کی معیاری دنیا- گویا خالق انسان سے یہ کہہ رہا ہے کہ اے میرے بندے، آخرت کے ابدی دور حیات میں تمھارے رب نے تمھارے لئے ایک ایسی آئڈیل دنیا تیار کررکھی ہے، جہاں تمھاری طلب (demand) اور تمھاری اشتہا (desire) کے مطابق تم کو ہر چیز ملے گی- جہاں تمھارے لئے کامل فُل فِل مینٹ (total fulfillment)کا انتظام ہے- ایک ایسی دنیا جو پوری طرح حَزَن (sorrow) سے خالی ہوگی- موجودہ دنیا کا سامان حیات ہر پیداہونے والے انسان کے لئے ہے، لیکن آخرت کی جنت صرف اس انسان کے لئے ہوگی، جو اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کرے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔