Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala April 2015
Al-Risala April 2015

جنتی کام

Urdu · 3 min read

قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کا مستحق امیدوار (deserving candidate) بننے کی تین خاص شرطیں ہیں- دنیا میں جو شخص ان شرطوں کو پورا کرے گا، اس کو آخرت کی ابدی جنت میں داخلہ ملے گا- وہ تین شرطیں یہ ہیں:

1- جنت میں داخلہ کی پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی خالق (Creator) کی گہری معرفت حاصل کرے- وہ تخلیق (creation)میں غور وفکر کرکے مسلسل طورپر اپنی معرفت کو بڑھاتا رہے، یہاں تک کہ اس کے اندر ایک ایسی ربانی شخصیت پیدا ہوجائے جو ہر لمحہ الحمد للہ (praise belongs to God) کی اسپرٹ میں جینے لگے- جو لوگ دنیا میں اپنے اندر اس قسم کی شخصیت بنائیں، انھیں کو آخرت میں یہ موقع ملے گا کہ وہ دوبارہ جنت کے معیاری ماحول میں الحمد للہ (39:75) کہنے کی توفیق پائیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2- جنت میں داخلے کا مستحق بننے کی دوسری شرط وہ ہے جو انسانوں کی نسبت سے مطلوب ہے- اس شرط کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: إِلَّا مَنْ أَتَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ (26:89) یعنی مگر وہ جو اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر آئے- قلب سلیم کا مطلب پاک دل (sound heart) ہے- قلب سلیم کا مطلب دوسرے الفاظ میں وہی ہے جس کو ربانی شخصیت کہاجاتا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ آدمی جب پیدا ہوتاہے تو وہ تخلیقی اعتبار سے قلب سلیم کے ساتھ ہی پیدا ہوتا ہے- ہر عورت اور ہر مرد فطرت پرپیدا ہوتے ہیں، اور فطرت پر پیداہونے کا نام ہی قلب سلیم کے تحتپیداہونا ہے- مگر موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے- یہاں کے تمام حالات امتحان کی مصلحت کے ساتھ بنے ہیں- اس لئے یہاں ہمیشہ ہر قسم کے منفی ومثبت دونوں قسم کے اسباب موجود رہتے ہیں- اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ دنیا میں پیدا ہوتے ہی آدمی کی کنڈیشننگ (conditioning) شروع ہوجاتی ہے- پیدا ہونے کے وقت آدمی مسٹر نیچر ہوتاہے، لیکن اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ مسٹرکنڈیشنڈ (Mr. Conditioned) بن جاتا ہے-

اس بنا پر قلب سلیم والا آدمی وہ ہے جو بڑا ہونے کے بعد دوبارہ اپنے آپ کو اس ابتدائی فطرت پر قائم کرے، جس پر پیداکرنے والے نے اس کو پیدا کیا تھا- یعنی وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning)کرے- وہ اپنی سوچ، اپنے مزاج اور اپنی عادات کے اعتبار سے اپنے اندر اس مثبت شخصیت (positive personality) کی تعمیر کرے، جو جنت کے معاشرے کا ممبر بننے کے لئے ضروری ہے-

جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ جنت میں ہر طرف امن کا ماحول ہوگا- یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جنت کو دار السلام (Home of Peace)کہاگیا ہے- جنت میں ہر طرف صدق گفتاری (54:55) کا ماحول ہوگا- جنت میں نہ کوئی لغو (nuisance) گفتگو کرنے والا ہوگا، اور نہ گناہ کی بات کرنے والا (56:25)- موجودہ دنیا ان صفات کی تربیت کا مقام ہے، جو افراد موجودہ دنیا میں اپنے اندر یہ صفات پیدا کریں، وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے معیاری معاشرے کے ممبر بنائے جائیں گے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

3- جنت کے استحقاق کی تیسری شرط یہ ہے کہ آدمی کو اسی دنیا میں جنت کا تعارف ( 47:6) حاصل ہوجائے- یہ حال اس انسان کا ہوتاہے، جو موجودہ دنیا میں اپنے ذہن کو اتنا ترقی یافتہ بنائے کہ اس کو شعوری طورپر جنت کی دریافت ہوجائے، وہ فطرت کے مناظر (natural scenes)کے اندر جنت کی جھلک (glimpse) دیکھنے لگے، وہ درختوں کی ہریالی میں جنت کے حسن کو دریافت کرلے، وہ چڑیوں کے چہچہے میں جنت کا نغمہ سننے لگے، وہ دریا میں شفاف پانی کو بہتے ہوئے دیکھے تو وہ جنت کی نہروں کو یادکرنے لگے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جنت میں داخلے کا فیصلہ ہر عورت اور ہر مرد کے ذاتی کردار کی بنیاد پر ہوگا- جس فرد نے دنیا کی زندگی میں اپنے اندر مذکورہ قسم کے اوصاف کو پیداکیا ہوگا، وہی آخرت میں اس کا مستحق قرار پائے گا کہ اس کو جنت میں داخلہ ملے- جنت کسی آدمی کو اس کی ذاتی خصوصیت (merit) کی بنیاد پر ملے گی، کسی اور مفروضہ کی بنیاد پر کسی شخص کو ہرگز جنت ملنے والی نہیں-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content