قرآن میں فرعون مصر کا ذکر ہے، جس کو اللہ نے اس کی سرکشی کی بنا پر تباہ کردیا تھا- اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: فَمَا بَکَتْ عَلَیْہِمُ ٱلسَّمَآءُ وَٱلْأَرْضُ وَمَا کَانُوا۟ مُنظَرِینَ (44:29) یعنی پس نہ ان پر آسمان رویا اور نہ زمین، اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔قرآن کی اس آیت میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جن کے مرنے پر آسمان وزمین نہیں روتے- دوسری طرف اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کی موت پر آسمان وزمین روتے ہیں- اِس دوسرے پہلو کا ذکر حدیث میں ان الفاظ میں آیا ہے: مامن انسان إلا لہ بابان فی السماء یصعد عملہ فیہ، وینزل رزقہ، فإذا مات العبد المؤمن بکیا علیہ (حلیة الأولیاء: 3/53) یعنی ہر انسان کے لئے آسمان میں دو دروازے ہوتے ہیں، ایک دروازے کے ذریعہ اس کا عمل اوپر جاتا ہے، اور دوسرے دروازے کے ذریعہ اس کا رزق نازل ہوتا ہے، جب بندۂ مومن پر موت آتی ہے تو دونوں اس کے لئے روتے ہیں-
اس حدیثِ رسول میں تمثیل کے اسلوب میں ایک عظیم حقیقت کو بتایا گیاہے- وہ یہ کہ ایک سچا مومن ایک کائناتی شخصیت کا حامل ہوتا ہے- وہ تدبر اور تفکر کے ذریعے مسلسل طور پر اللہ کی طرف سے معرفت کا رزق حاصل کرتا رہتا ہے، وہ خدا کی تخلیق میں غور وفکر کرکے مسلسل طورپر ربانی رزق حاصل کرتا رہتا ہے- اس اعتبار سے وہ گویا پوری کائنات کے لئے ایک مطلوب شخص بن جاتا ہے، کیونکہ کائنات اسی لئے پیدا کی گئی ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ اس پر غور کرکے اس سے حق کی معرفت حاصل کرے-
حقیقت یہ ہے کہ مومن کی ایک فزیکل شخصیت (physical personality) ہوتی ہے، اور دوسری اس کی فکری شخصیت (intellectual personality) - مومن کی فزیکل شخصیت اس کے جسم تک محدود ہوتی ہے، لیکن اس کی فکری شخصیت پوری کائنات تک پھیلی ہوئی ہے- فکر کی سطح پر بننے والی شخصیت ہی وہ کائناتی شخصیت ہے، جس کے کھونے پر زمین وآسمان پر وہ کیفیت گزرتی ہے، جس کو یہاں رونے سے تعبیر کیاگیا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔