قرآن کی سورہ آل عمرانمیں اجتماعی زندگی کے اصول کو ان الفاظ میں بتایا گیاہے: قُلْ یَٰٓأَہْلَ ٱلْکِتَٰبِ تَعَالَوْا۟ إِلَىٰ کَلِمَةٍ سَوَآءٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا ٱللَّہَ(3:64) یعنی کہو اے اہلِ کتاب، آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساںہے کہ ہم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔
کلمہ سوا کا مطلب کامن ٹرم (common term)یا کامن گراؤنڈ (common ground) ہے- یہ بات جو قرآن میں کہی گئی ہے، وہ اجتماعی زندگی کا ایک عمومی اصول ہے- اجتماعی زندگی میں جب کوئی کام کرنا ہو تو اس کے آغاز کا درست طریقہ یہ ہے کہ طرفین کے درمیان کامن گراؤنڈ کو تلاش کیا جائے، اور اُس کے حوالے سے اپنا کام شروع کیا جائے- یہ طریقہ قابل عمل بھی ہے، اور باعتبار نتیجہ زیادہ مؤثر بھی-
کامن گراؤنڈ کی کوئی محدود فہرست نہیں- جن لوگوں کے درمیان یا جس زمانے میں کام کرنا مطلوب ہو، اس کے مطابق دیکھا جائے گا کہ وہ کیا چیز ہے جو اس وقت کے حالات میں طرفین کے درمیان کامن گراؤنڈ کی حیثیت رکھتی ہے- کامن گراؤنڈ کا تعین کسی نظریاتی ماڈل کی بنیاد پر نہیں ہوگا بلکہ عملی حالات کی بنیاد پر اس کا تعین کیا جائے گا، ورنہ وہ مؤثر نہ ہوسکے گا-
مثلاً، قدیم زمانے میں ایک مذہبی نظریہ طرفین کے درمیان کامن گراؤنڈ بن سکتا تھا- موجودہ زمانہ سیکولرزم کا زمانہ ہے- اب مؤثر عمل کے لئے ضروری ہوگاکہ طرفین کے درمیان کوئی سیکولر نوعیت کا کامن گراؤنڈ تلاش کیا جائے- ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ اندیشہ ہےکہ کیا جانے والا عمل مؤثر نہ ہو، وہ فریق ثانی کی نسبت سے بے نتیجہ ہو کر رہ جائے- کامن گراؤنڈ کی ضرورت صرف آغاز کار کے لئے ہے- آغاز کے بعد بقیہ چیزیں تدریجی طورپر خود بخود اس کا حصہ بنتی چلی جائیں گی- کامن گراؤنڈ کا تعلق پرکٹیکل وزڈم (practical wisdom) سے ہے، نہ کہ مطلق معنوں میں آئیڈیالوجی سے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔