قرآن میں عدل کا مادہ 28 بار استعمال ہوا ہے-اس کے علاوہ عدل کے ہم معنی الفاظ بھی قرآن کی آیتوں میں بار بار استعمال ہوئے ہیں- اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں عدل (justice) کی اہمیت بہت زیادہ ہے- مگر اسلوب کے اعتبار سے قرآن کی آیتوں میں ایک فرق پایا جاتا ہے- زیادہ مقامات پر قرآن میں عدل کا لفظ لازم کے صیغے (intransitive form) میں استعمال ہوا ہے- مثلاً وَإذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا (6:152) یعنی جب بولو تو انصاف کی بات بولو- عام حالات میں عدل کا تقاضا یہی ہے- عام حالات میں ہر انسان سے یہی مطلوب ہے کہ وہ انصاف کی بات کہے، وہ لوگوں کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرے- مومن پر یہ ذمے داری نہیں ہے کہ وہ عملاً ایک منصفانہ حکومت قائم کرے- اس کی اصل ذمے داری یہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں منصفانہ روش اختیار کرے-
دوسرا استعمال وہ ہے جہاں قرآن میں عدل کا حکم متعدی کے صیغہ (transitive form) میں آیا ہے، یعنی عدل کا نظام قائم کرنا- اس کی ایک مثال وہ ہے جو حضرت داؤد کے ذیل میں آئی ہے: یَا دَاؤُدُ إِنَّا جَعَلْنَٰکَ خَلِیفَةً فِى ٱلْأَرْضِ فَٱحْکُم بَیْنَ ٱلنَّاسِ بِٱلْحَقِّ(38:26) یعنی اے داؤد،ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ (حاکم ) بنایا ہے تو لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو- قرآن کی اس آیت میں حق کا لفظ عدل وقسط کے معنی میں آیا ہے- اس سے معلوم ہوا کہ حاکم (ruler) کا فرض ہےکہ وہ عدل کو عملاً نافذ کرے- وہ دوسروں کو عدل وقسط کا پابند بنائے-
اسلام کے مطابق انسان کی ذمے داری بقدر استطاعت (2:286) ہے- عام انسان جس کو اقتدار حاصل نہیں ہے، اس کی ذمے داری یہ ہے کہ اپنے دائرہ عمل میں ہمیشہ وہ انصاف کی روش اختیار کرے- لیکن جس شخص کو اللہ اقتدار کامالک بنائے، اس کو ذاتی انصاف پسندی کے علاوہ یہ بھی کرنا ہے کہ وہ اپنی طاقت کے بقدر انصاف کا نظام قائم کرے- بقدر امکان وہ لوگوں کو عدل کا پابند بنائے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔