Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala April 2015
Al-Risala April 2015

نظریہ، تاریخ

Urdu · 2 min read

کسی مشن کاایک حصہ وہ ہے، جس کو نظریہ (ideology)کہا جاتا ہے، اور دوسری چیز وہ ہے جس کو عملی تدبیر (strategy) کہا جاتاہے-بنیادی نظریہ کی حیثیت ابدی اصول کی ہوتی ہے- اس کے برعکس، عملی تدبیر ہمیشہ حالات کے اعتبار سے اختیار کی جاتی ہے- یہ دونوں چیزیں ہر مشن میں ہوتی ہیں، خواہ وہ کوئی مذہبی مشن ہو یا کوئی سیکولر مشن-

مثلاً، مہاتما گاندھی کا مشن ایک سیکولر مشن تھا، ان کی آئیڈیا لوجی تمام تر اہنسا (nonviolence) پر مبنی تھی- اس کے مطابق انھوں نے اپنی پوری تحریک چلائی- اسی کے ساتھ وقت کے عملی تقاضے کے تحت انھوں نے ایک طریقہ اختیار کیا، جس کو سول نافرمانی (civil disobedience) کہا جاتا ہے- ان کی امن کی آئیڈیالوجی، ان کے مشن کا مستقل حصہ تھی- لیکن سول نافرمانی کی حیثیت ایک وقتی تدبیر کی تھی، جو حالات کی نسبت سے مطلوب تھی- حالات جب بدلے تو سول نافرمانی کا طریقہ ایک غیر متعلق (irrelevant) طریقہ بن گیا-

یہی معاملہ اسلام کا بھی ہے- اسلام کی آئیڈیالوجی توحید کی آئیڈیالوجی ہے، یہ مکمل طورپر ایک پرامن آئیڈیالوجی ہے- نظریۂ توحید کی حیثیت اسلام میں ابدی نظریہ کی ہے- اس میں کبھی کوئی تبدیلی آنے والی نہیں-اسی کے ساتھ اسلام کے دو ر اول کی تاریخ بتاتی ہے کہ اشاعت توحید کے پرامن مشن کے ساتھ عرب میں غزوات بھی پیش آئے، یعنی فریق ثانی کے ساتھ جنگ- مگر یہ غزوات (قتال) اسلام کی تاریخ میں عملی تدبیر کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ آئیڈیالوجی کا مستقل حصہ نہیں- قرآن کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں قسم کی تعلیمات کو الگ کرکے دیکھا جائے- توحید کی آیتوں کو اسلام کی ابدی آئیڈیالوجی کا حصہ سمجھاجائے، اور قتال کی آیتوں کو حالات کی نسبت سے پیش آنے والی وقتی تدبیر کا حصہ- موجودہ زمانے میں عالمی حالات مکمل طور پر بدل گئے ہیں، پہلے اگر دورِ قتال تھا تو اب دورِ امن ہے- ایسی حالت میں قتال کو اب عملاً اسلام کی وقتی تاریخ کا حصہ سمجھا جائے گا، نہ کہ اسلام کے ابدی مشن کا حصہ-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.