اسلام کی کچھ تعلیمات وہ ہیں جو علی الاطلاق (absolute sense) طورپر مطلوب ہیں- اور دوسری تعلیمات وہ ہیں جن کا حکم حالات کی نسبت سے متعین ہوتاہے- مثلاً عبادت وہ عمل ہے، جو ہر فرد سے مطلق طورپر مطلوب ہے- اس کے برعکس سیاست کا تعلق حالات سے ہے، جیسے حالات ویسا سیاسی حکم-
عبادت کا اصول حدیث کے الفاظ میں یہ ہے : صلوا کما رأیتمونی أصلی (البخاری، رقم الحدیث: 6008) یعنی نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو- اس کے مقابلہ میں سیاست کا تعلق حالات سے ہے- اس معاملہ میں اسلام کی تعلیم یہ ہے: وَأمْرُھُمْ شُوْرَى بَیْنَہُمْ ( 42:38) یعنی اور ان کا نظام شوری پر ہے- اس سے معلوم ہوا کہ سیاست کے معاملہ میں کوئی مطلق ماڈل نہیں، وہ تمام تر اجتماعی حالات پر موقوف ہے-
عبادت ایک انفرادی معاملہ ہے- وہ ایک ذاتی پیروی کی چیز ہے- اس لئے یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی عبادت کے معاملے میں ذاتی طورپر جس طریقے کو معیاری طریقہ سمجھے، اس کو اپنی ذاتی زندگی میں اختیار کرلے، لیکن سیاست کا معاملہ ایک اجتماعی معاملہ ہے- سیاست کے معاملے میں وہی طریقہ عملاً چل سکتا ہے، جس پر تمام لوگ راضی ہوں- ایک شخص یا ایک گروہ اگر ایسا کرے کہ وہ سیاست کے معاملہ میں اپنے پسندیدہ ماڈل کو نافذ (implement) کرنے لگے تو اس سے لازماً ٹکراؤ ہوگا، اور باعتبار نتیجہ اصلاح کے بجائے فساد پھیل جائے گا-
اس مسئلے کا قابل عمل حل یہ ہے کہ سیاست کے معاملے کوشوری (اجتماعی مشورہ) کا معاملہ قرار دیاجائے- شورائی نظام کو موجودہ زمانے میں جمہوری نظام کی حیثیت سے قبول عام حاصل ہوگیا ہے- اس لئے اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ بھی اس مقبول عام جمہوری طریقے کو مانیں اور اس کے مطابق سیاسی نظام کی تشکیل کریں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔