قرآن کا ایک اسلوب یہ ہے کہ ایک خصوصی حوالہ (particular reference)کے ذریعہ عمومی اصول (general principle)کو بیان کرنا- اس کی ایک مثال قرآن کی سورہ آل عمران کی ایک آیت میں اس طرح ملتی ہے: ٱلَّذِینَ قَالَ لَہُمُ ٱلنَّاسُ إِنَّ ٱلنَّاسَ قَدْ جَمَعُوا۟ لَکُمْ فَٱخْشَوْہُمْ فَزَادَہُمْ إِیْمَانًا وَقَالُوا۟ حَسْبُنَا ٱللَّہُ وَنِعْمَ ٱلْوَکِیلُ(3:173) یعنیجن سے لوگوں نے کہا کہ دشمن نے تمہارے خلاف بڑی طاقت جمع کر لی ہے اس سے ڈرو ،لیکن اس چیز نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کردیا اور وہ بولے کہ اﷲ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔
اس آیت پر غور کرنے سے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے- وہ یہ کہ جب انسان کے اندر زندہ ایمان (living faith) موجود ہو تو ہر انسانی خطرہ اس کے یقین میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے- خطرہ کی حالت اس کے لئے ایک مثبت کمپلشن (compulsion) کی صورت پیدا کرتی ہے- جب وہ محسوس کرتاہے کہ انسان کی رسی اس سے چھوٹ رہی ہے تو اس کا ایمان مزید بیدار ہوجاتا ہے، اور وہ اللہ کی رسی کو اور شدت کے ساتھ پکڑ لیتاہے- اس طرح ہر محرومی اس کے لئے ایک نئی یافت کا سبب بن جاتی ہے-
خشیت انسانی کے موقع پر یقین خداوندی میں اضافہ ہونا، ایک داخلی عمل (internal process) کے ذریعہ ہوتاہے- خشیت انسانی کا پیش آنا، اس کے اندر ایک ذہنی دھماکہ پیدا کرتاہے- اب اگر اس کے اندر زندہ ایمان موجود نہ ہو تو وہ مایوسی کا شکار ہوجائے گا، وہ پست ہمت بن کر رہ جائے گا-
اس کے برعکس، اگر اس کے اندر زندہ ایمان موجود ہو تو ہر انسانی خشیت کا واقعہ اس کو ایمانی غذا عطا کرے گا- اللہ کی طرف رجوع ہونے کی بنا پر اس کے یقین میں اضافہ ہوجائے گا- وہ مزید استقامت کے ساتھ اللہ کے دین پر قائم ہوجائے گا- ہر بحران اس کی شخصیت میں ارتقا کا ذریعہ بن جائے گا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔