قرآن میں ایک طرف یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے اندر وہ اعلی معرفت پیدا ہونی چاہئے، جب کہ وہ کہہ سکے: اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ( 1:1) -دوسری طرف قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ: لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ( 90:4)، یعنی انسان کو اس کے خالق نے مشقت(hardship)میں پیدا کیا ہے- ان دونوں آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ انسان کاامتحان یہ ہے کہ وہ مشقت کے حالات میں حمد کی اسپرٹ کے ساتھ جئے- وہ منفی حالات میں مثبت سوچ (positive thinking) کے ساتھ زندگی گزارے-یہ بظاہر متضاد صورت حال (contradictory situation) ہے- پھر اس متضاد صورت حال کی حکمت کیا ہے-
اصل یہ ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے لامحدود صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے- انسان کے دماغ میں لامحدود امکانات چھپے ہوئےہیں- انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے پوٹینشل (potential) کو ایکچول (actual)میں تبدیل کرے، وہ اپنے لاشعور میں چھپے ہوئے امکانات کو بیدار کرے، اس کو اپنے شعو رکا حصہ بنائے- یہ کام معتدل حالات میں نہیں ہوسکتا، وہ صرف چیلنج کے حالات میں ہوسکتا ہے- دنیا کی مشقتیں انسان کے لئے اسی چیلنج کا سبب بنتی ہیں-
چیلنج انسان کے دماغ کو زلزلے سے دوچار کرتا ہے، چیلنج انسان کے ذہن میں وہ ہلچل پیدا کرتا ہے جس کو نفسیات کی زبان میں ذہنی طوفان (brainstorming) کہاجاتا ہے- یہی وہ زلزلہ خیز حالات ہیں جو انسان کے اندر چھپے ہوئے امکانات کو بروئے کار لاتے ہیں- دنیا کے پرمشقت حالات انسان کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ ذہنی ارتقا کے مراحل سے گزرے، وہ اعلی معرفت کے ساتھ الحمد للہ رب العالمینکہہ سکے- دنیا میں پرمشقت حالات کاہونا، انسان کے لئے ایک عظیم رحمت ہے- اس کے بغیر انسان کے اندر ذہنی بیداری اور روحانی ارتقا (spiritual development)ممکن نہ ہوتا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔