قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو زمین پر خلیفہ بنایا ہے: إِنِّى جَاعِلٌ فِى ٱلْأَرْضِ خَلِیفَةً (2:30) - اس سے مراد نہ خدا کا خلیفہ ہونا ہے، اور نہ اسلامی خلیفہ ہونا- اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو زمین پر با اختیار مخلوق کی حیثیت سے آباد کیا ہے- یہ اختیارانہ حیثیت نہ فرشتوں کو حاصل ہے، اور نہ سورج اور چاند کو-
قرآن کی دوسری متعلق آیتوں کو لے کر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کو استثنائی ذہن دیاگیا اور پھر اس کو آزادی عطا کی گئی- اس کا مقصد یہ تھاکہ انسان اپنے ذہن کو استعمال کرے، اور پھر وہ خود دریافت کردہ معرفت پر کھڑا ہو- مخلوقات سے اصل چیز جو مطلوب ہے، وہ حمد ہے- پوری کائنات اللہ رب العالمین کی مجبورانہ حمد کررہی ہے- مگر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے، آزادانہ طورپر خدائی سچائی کو دریافت کرے، اور کسی جبر کے بغیر اس پر کھڑا ہو- یہی خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) وہ چیز ہے جو انسان کو ابدی جنت میں داخلے کا مستحق بناتی ہے-
اس حقیقت کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: عن عبد اللہ ابن عمرو قال: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: ما من شئ اکرم على اللہ یوم القیامة من ابن آدم- قیل یا رسول اللہ، ولا الملائکة؟ قال: ولا الملائکة؛ إن الملائکة مجبورون بمنزلة الشمس والقمر (المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث: 14509) یعنی حضرت عبد اللہ ابن عمرو بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے افضل درجہ انسان کا ہوگا، کہاگیا کہ اے اللہ کے رسول، کیا فرشتوں سے بھی؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، فرشتوں سے بھی، کیونکہ فرشتے سورج اور چاند کی مانند مجبور ہیں— حقیقت یہ ہے کہ خلیفہ کا لفظ کسی عہدہ کو نہیں بتاتا، بلکہ وہ صرف نوعیتِ حمد کو بتاتا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔