Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala April 2015
Al-Risala April 2015

انسانیت کی منزل جنت

Urdu · 1 min read

قرآن کی سورہ فاطر میں بتایا گیاہے کہ اہلِ جنت جب جنت میں داخل ہوجائیں گے، اور وہاں کی نعمتوں کو دیکھیں گے تو ان کی زبان سے نکلے گا: وَقَالُوا۟ ٱلْحَمْدُ لِلَّہِ ٱلَّذِىٓ أَذْہَبَ عَنَّا ٱلْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَکُورٌ(35:34) یعنی اور وہ کہیں گے، شکر ہے اﷲ کاجس نے ہم سے غم کو دور کردیا، بے شک ہمارا رب معاف کرنے والا، قدر کرنے والا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

And they will say, All praise belongs to God who has removed grief from us. Surely, our Lord is Most Forgiving, Most Appreciating.

Qur'anQuotes the Qur'an

جنت کی یہ انوکھی صفت ہوگی کہ وہاں ہر قسم کے غم کا خاتمہ ہو جائے گا- موجودہ دنیا اگر دارالحَزن تھی تو جنت ایک ایسی دنیا ہوگی جو خالی از حزن (sorrow-free world) ہوگی- جنت میں نہ کوئی نفسیاتی غم ہوگا، اور نہ کوئی مادی غم-

قرآن کے مطابق موجودہ دنیا میں انسان کو ضرورت کی تمام چیزیں حاصل ہیں (14:34)- لیکن ایک چیز ایسی ہے جو موجودہ دنیا میں اس کے لازمی جز کی حیثیت سے شامل ہے، اور وہ غم (حزن) ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ دنیا میں آدمی خواہ کچھ بھی حاصل کرلے لیکن کسی نہ کسی اعتبار سے اس میں غم کا پہلو شامل رہتا ہے— جسمانی تکلیف، نفسیاتی پریشانی، کھونے کا اندیشہ، حادثہ، بیماری، تکان(boredom) ، تشنۂ تکمیل خواہش (unfulfilled desire)، بڑھاپا، موت، مستقبل کا اندیشہ، ملی ہوئی چیزوں کا امپرفکٹ (imperfect) ہونا، عدم یقین (uncertainty)، آدمی کی محدودیت(limitations)، نتیجہ پر کنٹرول نہ ہونا، دوسروں کا خوف، تردد (tension) ، وغیرہ-

جنت میں حزن کا نہ ہونا، ان تمام باتوں کو بتا رہا ہے، اور جو مقام ابدی طورپر حزن سے اس طرح خالی ہو، وہ بلا شبہہ انسان کی منزل ہے، اس سے کم کوئی چیز انسان کی منزل نہیںہوسکتی-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content