قرآن کی سورہ فاطر میں بتایا گیاہے کہ اہلِ جنت جب جنت میں داخل ہوجائیں گے، اور وہاں کی نعمتوں کو دیکھیں گے تو ان کی زبان سے نکلے گا: وَقَالُوا۟ ٱلْحَمْدُ لِلَّہِ ٱلَّذِىٓ أَذْہَبَ عَنَّا ٱلْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَکُورٌ(35:34) یعنی اور وہ کہیں گے، شکر ہے اﷲ کاجس نے ہم سے غم کو دور کردیا، بے شک ہمارا رب معاف کرنے والا، قدر کرنے والا ہے-
And they will say, All praise belongs to God who has removed grief from us. Surely, our Lord is Most Forgiving, Most Appreciating.
جنت کی یہ انوکھی صفت ہوگی کہ وہاں ہر قسم کے غم کا خاتمہ ہو جائے گا- موجودہ دنیا اگر دارالحَزن تھی تو جنت ایک ایسی دنیا ہوگی جو خالی از حزن (sorrow-free world) ہوگی- جنت میں نہ کوئی نفسیاتی غم ہوگا، اور نہ کوئی مادی غم-
قرآن کے مطابق موجودہ دنیا میں انسان کو ضرورت کی تمام چیزیں حاصل ہیں (14:34)- لیکن ایک چیز ایسی ہے جو موجودہ دنیا میں اس کے لازمی جز کی حیثیت سے شامل ہے، اور وہ غم (حزن) ہے-
موجودہ دنیا میں آدمی خواہ کچھ بھی حاصل کرلے لیکن کسی نہ کسی اعتبار سے اس میں غم کا پہلو شامل رہتا ہے— جسمانی تکلیف، نفسیاتی پریشانی، کھونے کا اندیشہ، حادثہ، بیماری، تکان(boredom) ، تشنۂ تکمیل خواہش (unfulfilled desire)، بڑھاپا، موت، مستقبل کا اندیشہ، ملی ہوئی چیزوں کا امپرفکٹ (imperfect) ہونا، عدم یقین (uncertainty)، آدمی کی محدودیت(limitations)، نتیجہ پر کنٹرول نہ ہونا، دوسروں کا خوف، تردد (tension) ، وغیرہ-
جنت میں حزن کا نہ ہونا، ان تمام باتوں کو بتا رہا ہے، اور جو مقام ابدی طورپر حزن سے اس طرح خالی ہو، وہ بلا شبہہ انسان کی منزل ہے، اس سے کم کوئی چیز انسان کی منزل نہیںہوسکتی-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔