قرآن نے جس طرح انسانی زندگی کی ایک آئڈیالوجی دی ہے، اسی طرح قرآن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس آئڈیا لوجی کے مطابق زندگی گزارنے کا درست طریقہ کیا ہے- اگر آدمی قرآن کا نام لے، لیکن وہ طریق کار کے معاملے میں قرآن کے بتائے ہوئے طریقے کی پیروی نہ کرے تو محض قرآن کا نام لینے کی بنا پر اس کا کیس قرآن کا کیس نہیں بن جائے گا-طریق کار کے معاملے میں قرآن میں اصولی ہدایات موجود ہیں، اس کے علاوہ قرآن میں پیغمبروں کاجو تذکرہ ہے وہ گویا قرآنی طریق کار کا عملی ماڈل ہے- آدمی کو چاہئے کہ وہ اس معاملے میں کھلے ذہن کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرے- وہ ایک طرف قرآن سے طریق کار کا اصول دریافت کرے، اور دوسری طرف پیغمبروں کے حالات سے اس کا عملی نمونہ بھی دریافت کرے- خدا کی اس دنیا میں کسی انسان کے لیے کامیابی کا یہی واحد طریقہ ہے-
اس سلسلے میں قرآن کی ایک رہنما آیت یہ ہے: وَلَا تُطِعِ ٱلْکَـٰفِرِینَ وَٱلْمُنَـٰفِقِینَ وَدَعْ أَذَاہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَى اللَّـہِ ۚ وَکَفَىٰ بِاللَّـہِ وَکِیلًا (33:48) اور تم منکروں اور منافقوں کی بات نہ مانو اور ان کے ستانے کو نظر انداز کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو- اور اللہ بھروسہ کے لیے کافی ہے- قرآن کی اس آیت سے یہ اصول ملتا ہےکہ اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ فریق ثانی کی ایذاؤں پر ہر گز دھیان نہ دیں، اور کامل یکسوئی کے ساتھ اپنا مثبت مشن جاری رکھیں- اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کو لازماً اللہ کی مدد حاصل ہوگی- وہ اپنی کوتاہیوں کے باوجود اپنے مشن کو پورا کرنے میں کامیاب رہیں گے-
اس معاملے کی ایک مثال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا وہ واقعہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہاجاتا ہے- صلح حدیبیہ کا واقعہ 6 ھ میں پیش آیا- اس واقعے کا مختصر ذکر قرآن کی سورہ نمبر 48 میں کیا گیاہے اور اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں ملتی ہے- اس واقعے سے زندگی کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ اجتماعی زندگی میں امن (peace) صرف یک طرفہ شرطوں کو ماننے سے قائم ہوتا ہے، دوطرفہ شرطوں (bilateral conditions)کی بنیاد پر کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا- یہی فطرت کا اصول ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔