قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور لوگوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے- اور زمین ساری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور تمام آسمان لپٹے ہوں گے اس کے دائیں ہاتھ میں- وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ( 39:67)- اس آیت کی تفسیرمیں ایک روایت ہے جو حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے- صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: یقبض اللہ الأرض ویطوی السماوات بیمینہ ثم یقول: أنا الملک، أین ملوک الأرض (صحیح البخاری: 4812)، یعنی اللہ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا، اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا پھر کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں زمین میں بادشاہی کرنے والے-
قرآن کی اس آیت میں اللہ کی قدر نہ کرنے کا مطلب اللہ کے نقشۂ تخلیق کا کمتر اندازہ (underestimation) کرنا ہے، اور شرک کا مطلب ہے اللہ کے نقشۂ تخلیق کے سوا کسی خود ساختہ نقشے کو اپنی زندگی کے لئے اپنانا- حدیث رسول مزید یہ بتاتی ہے کہ اس دار الامتحان میں یہ صورت عملاً قیامت تک جاری رہے گی، یہاںتک کہ قیامت میں اللہ ظاہر ہوجائے گا، اور اعلان کرے گا کہ اصل مطلوب تو یہ تھا کہ زندگی کو خالق کے نقشۂ تخلیق پر چلایا جائے، مگر خود ساختہ حکمرانوں (self-styled rulers)نے زمین پر اپنی مرضی کو جاری کردیا- یہ آیت اور حدیث کسی سیاسی معنی میں نہیں ہے، اس کا مطلب صرف یہ ہےکہ اللہ نے زمین کو دار الامتحان (testing ground) کے طور پر بنایا ہے- اللہ کی مرضی یہ تھی کہ زمین پر آزادی کا ماحول قائم رہے تاکہ ہر انسان کی جانچ ممکن ہوسکے- اور یہ واضح ہوسکے کہ کس شخص نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا، اور کس شخص نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا-
ہزاروں سال تک بادشاہوں نے انسان کو مذہبی آزادی (religious freedom)سے محروم کررکھا تھا- اس کے بعد حالات میں تبدیلی ہوئی، یہاں تک کہ ساتویں صدی عیسوی میں رسول اور اصحاب رسول کو یہ موقع ملا کہ وہ بادشاہی نظام کا خاتمہ کردیں، اور انسان کے لئے مذہبی آزادی کا دروازہ کھول دیں- اب انسانی تاریخ اسی دور آزادی سے گزر رہی ہے-
قرآن وحدیث کے اس بیان پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ یہ اللہ رب العالمین ہے جو انسانی تاریخ کو مینیج (manage)کررہا ہے- یہ خدائی مینجمنٹ اس مصلحت کے تحت ہورہا ہے کہ دنیا کا اصل کیریکٹر، اس کا دار الامتحان (testing ground) ہونا قیامت تک باقی رہے، اور آزادانہ عمل کے تحت ہر فرد کا ریکارڈ تیار ہوسکے-
اللہ رب العالمین کے نقشۂ تخلیق (creation plan) کے مطابق انسان تاریخ کا منیجر (master of history) نہیں ہے- انسان صرف اپنی ذات کا منیجر ہے- انسان کو یہ نہیں کرنا ہے کہ وہ تاریخ کا کنٹرولر(controller of history)بننے کی کوشش کرے- انسان کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ اپنی ذات پر کنٹرول کرے، وہ اپنے آپ کو توحید اور عدل (justice) پر قائم کرے- یہی الدین ہے اور اسی کی ذاتی پیروی کا نام اقامت دین ہے-
قدیم زمانے میں بادشاہوں نے تاریخ کا منیجر بننے کی کوشش کی- یہ اللہ کے نقشہ تخلیق کے خلاف تھا، اس لئے اللہ نے ہمیشہ کے لئے بادشاہی نظام کا خاتمہ کردیا- موجودہ زمانہ آزادی اور جمہوریت کا زمانہ ہے، یہ زمانہ خود اللہ کے نقشۂ تخلیق کے تحت وجود میں آیا ہے- اس نظام کے تحت ہر عورت اور ہرمرد کو یہ موقع ہے کہ وہ آزادانہ طورپر جو چاہے کرے، اور اپنے قول وعمل کے مطابق وہ اللہ کے یہاں اپنا درجہ متعین کرے-موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے اللہ کے اس نقشہ تخلیق کو نہیں سمجھا- انھوں نے اللہ کے دین کی خود ساختہ تعبیر (self-styled interpretation) کے تحت اپنا یہ منصب فرض کرلیا کہ وہ ساری دنیا میں اپنی حکومت قائم کریں- یہ گویا دوبارہ تاریخ کا منیجر (manager of history) بننے کی کوشش ہے- یہ بلاشبہہ اللہ کی اسکیم کے خلاف ہے- اللہ کسی کو یہ موقع دینے والا نہیں کہ وہ تاریخ کا منیجر بن جائے- مسلمانوں کی ذمہ داری خود اپنے آپ کو اللہ کے تابع بنانا ہے، نہ کہ انسانی تاریخ کا منیجربننا- یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کا خود ساختہ جہاد مکمل طورپر ناکام ہورہا ہے- مسلمانوں کا خود ساختہ جہاد ان کو تاریخ کا منیجر تو نہ بنا سکا، البتہ وہ خود ایک تباہ شدہ قوم بن کر رہ گئے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔