Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala April 2015
Al-Risala April 2015

تبدیلی کے دودور

Urdu · 3 min read

قرآن کی سورہ التوبہ میں ایک منصوبۂ الٰہی کا ذکر ان الفاظ میں کیاگیا ہے: إِنَّ ٱللَّہَ ٱشْتَرَىٰ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِینَ أَنفُسَہُمْ وَأَمْوَٰلَہُم بِأَنَّ لَہُمُ ٱلْجَنَّةَ ۚ یُقَٰتِلُونَ فِى سَبِیلِ ٱللَّہِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِیلِ وَٱلْقُرْءَانِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَہْدِہِ مِنَ ٱللَّہِ ۚ فَٱسْتَبْشِرُوا۟ بِبَیْعِکُمُ ٱلَّذِى بَایَعْتُم بِہِ ۚ وَذَٰلِکَ ہُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِیمُ. (9:111) یعنی بلاشبہ اﷲ نے مومنوں سے ان کی جان اور ان کے مال کو خرید لیا ہے جنت کے بدلے۔ وہ اﷲ کی راہ میں لڑتے ہیں ۔ پھروہ قتل کرتے اور قتل کئے جاتے ہیں ۔ یہ اﷲ کے ذمہ ایک سچا وعدہ ہے، تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں ۔ اور اﷲ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے۔ پس تم خوش ہوجاؤ اس معاملہ پر جو تم نے اﷲ سے کیا ہے۔ اور یہی ہے سب سے بڑی کامیابی-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اس آیت میں جس معاملے کا ذکر ہے، اس کو الفوز العظیم (supreme achievement) کہاگیا ہے- مزید یہ کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا ذکر اس سے پہلے تورات اور انجیل میں بھی آچکا ہے- فَیَقتلون ویُقتلون کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہاں جس معاملے کا ذکر ہے، وہ ایک بہت بڑا منصوبۂ الٰہی (divine plan) ہے- یہ ایک ایسی مہم تھی جس کے لئے ضروری تھا کہ اہل ایمان اس کے لئے آخری ممکن قربانی دے دیں- اس کے بعد ہی ایسا ہوسکتا تھا کہ یہ خدائی منصوبہ تکمیل تک پہنچے اور اس منصوبہ میں اپنا حصہ اداکرنے والوں کو جنت کے اعلیٰ درجا ت میں جگہ ملے-

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس منصوبہ الہٰی کے دو مرحلے (phases)تھے- ایک مرحلہ وہ تھا، جس کی تکمیل اصحاب رسول کے زمانے میں، ساتویں صدی عیسوی میں ہوئی، اور دوسرا مرحلہ وہ ہے، جس کے لیے یہ مقدر تھاکہ وہ بعد کے زمانے میں انجام پائے- آیت کا اسلوب بتاتا ہے کہ اس سے مراد ایک بہت بڑا منصوبہ ہونا چاہئے-

قرآن کی دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں تاریخ کے ایک عظیم انقلاب کا بیان ہے، یعنی مخالفِ اسلام دور کو ختم کرنا اور موافقِ اسلام دور کو لانا- پیغمبر اسلام سے پہلے تاریخ کا جو دور گزرا ہے، اس میں بہت سے پیغمبر آئے، لیکن ہر پیغمبر کو غیر معمولی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا- اس لیے ان پیغمبروں کا مشن صرف دعوت کے مرحلے تک رہا، وہ انقلاب کے مرحلے تک نہیں پہنچا- اس کا سبب یہ تھا کہ قدیم دور ایک مخالف اسلام دور تھا- یہ دور سیاسی طاقت کے زور پر قائم تھا، ضروری تھا کہ اس دور کو ختم کیا جائے- مگر اس دور کو ختم کرنا جان ومال کی عظیم قربانی کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا، اصحاب رسول نے یہی کارنامہ انجام دیا-

جب اصحابِ رسول کی قربانیوں سے مخالفِ اسلام دور ختم ہوا تو اس کے بعدفطری طور پر یہ ہوا کہ انسانی تاریخ میں ایک نیا عمل (process)جاری ہوگیا- یہ ایک نہایت گہرا عمل تھا-اس عمل کی انجام دہی میں اہل ایمان کے علاوہ غیر اہل ایمان (سیکولر اقوام) بھی شریک ہوئے- اس عمل کی تکمیل مغرب میں ہوئی- پہلے مرحلے میں مخالفِ اسلام دور کا خاتمہ کیا گیا تھا- دوسرے دور میں تمام موافقِ اسلام مواقع کھل گئے-

پہلے دور کو قرآن میں ختم فتنہ(8:39)کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے- دوسرے مرحلے میں پیش آنے والے واقعے کو مواقع کا انفجار(opportunity explosion) کہاجاسکتا ہے- پہلے مرحلے کا کام اصحاب رسول نے مکمل طورپر انجام دیا، اور اس بنا پر وہ جنت کے مستحق قرار پائے- دوسرے دور میں کرنے کا کام یہ ہے کہ پیش آمدہ مواقع کو دریافت کرکے ان کو دعوت حق کے لیے بھرپور طورپر استعمال کیا جائے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصحابِ رسول نے اس معاملہ میں منصوبۂ الہی کے پہلے مرحلہ کو ظہور میں لانے کے لیے اپنا حق ادا کیا، اور فوزِ عظیم کے مستحق قرار پائے- اب جو لوگ پیدا شدہ مواقع کو بھر پور استعمال کرکے دوسرے مرحلے کا کام انجام دیں گے، یعنی پیغام حق کی عالمی تبلیغ ، وہ دوبارہ فوز عظیم کے مستحق قرار پائیں گے، جس طرح دور اول کے لوگ فوز عظیم کے مستحق قرا ر پائے ـتھے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content