اسلام میں جہاد کے عمل کو خصوصی درجہ حاصل ہے- جہاد کا مطلب لڑائی نہیں ہے، جہاد کا لفظی مطلب بھرپور کوشش (utmost struggle)ہے- کوئی شخص ایک مقصد کے حصول میں اپنی ساری کوشش صرف کردے تو اسی کا نام جہاد ہے- قرآن کے مطابق، جہاد کی دو بڑی صورتیں ہیں، جہاد بالقرآن اور جہاد بالسیف-جہاد بالقرآن کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے: وَجَاہِدْہُمْ بِہِ جِہَاداً کَبِیْراً (25:52) یعنی اور قرآن کے ذریعہ ان سے جہاد کرو، بڑا جہاد - قرآن کے ذریعہ جہاد کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ قرآن کے پیغام کو لوگوں کے درمیان نظریاتی طورپر پھیلایا جائے، یعنی پرامن طورپر دعوتی کام (peaceful dawah work) انجام دینا- اسلام کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے- یہ ایک پر امن پیغام رسانی کا عمل ہے، جو ہمیشہ اور ہر حال میں جاری رہنے والا ہے-
جہاد بالسیف کو قرآن میں قتال (war) کہاگیا ہے ،اور اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے:وَقَٰتِلُوہُمْ حَتَّىٰ لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ ٱلدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ ۚ فَإِنِ ٱنتَہَوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّہَ بِمَا یَعْمَلُونَ بَصِیرٌ. (8:39) یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے- اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے- پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ ان کے عمل کو دیکھنے والا ہے- اِس آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ قتال کا یہ عمل کوئی مستقل عمل نہیں - وہ ایک محدود عمل ہے، جو صرف ختم فتنہ تک جاری رہے گا- فتنہ ختم ہوجائے تو یہ قتال بھی ختم ہوجائے گا-
ایک حدیث کی وضاحت
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: الجہاد ماض إلى یوم القیامة، مذ بعث اللہ محمدا صلى اللّہ علیہ وسلم إلى آخر عصابة من المسلمین، لا ینقض ذلک جور جائر، ولا عدل عادل (المعجم الأوسط للطبرانی، رقم الحدیث: 4775) یعنی جہاد جاری رہے گا قیامت تک، اس وقت سے جب کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا، مسلمانوں کی آخری جماعت تک- اس کو نہ ظالم کا ظلم روکے گا اور نہ عادل کا عدل-
حدیث کے الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں جہاد سے مراد جہاد بالقرآن ہے نہ کہ جہاد بالسیف- حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ جہاد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی شروع ہوجائے گا- یہ کون سا جہاد تھا جو کہ پیغمبراسلام کی بعثت کے بعد شروع ہوا- جیسا کہ معلوم ہے، بعثت کے بعد پیغمبر اسلام تیرہ سال تک مکہ میں رہے- اس دوران آپ نے کوئی جہاد بالسیف نہیں کیا- آپ نے جوکچھ کیا، وہ صرف یہ تھا کہ آپ اہلِ مکہ کے درمیان پرامن طورپر قرآن کا پیغام پھیلاتے رہے-دوسری بات یہ کہ حدیث میں بتایا گیاہے کہ عادل حاکم کا زمانہ ہو تب بھی جہاد کا یہ عمل جاری رہے گا- ظاہر ہے کہ اس سے مراد جہاد بالسیف نہیں ہوسکتا، کیوں کہ عادل حاکم کے خلاف جہاد ایک فساد کا عمل ہوگا نہ کہ جہاد کا- اس سے مراد لازمی طور پر جہاد بالقرآن ہے، یعنی پرامن دعوتی عمل- پرامن دعوتی عمل ایک ایسا کام ہے، جس کا تعلق ظالم حکمراں یا عادل حکمراں سے نہیں ہے- دعوتی عمل کا مقصد ہے ہر پیدا ہونے والے عورت اور مرد تک اللہ کا پیغام پہنچانا- یہ مکمل طورپر ایک پرامن عمل ہے جو ہر دور میں بلا انقطاع جاری رہے گا-
جہاد کا لفظی مطلب کوشش کرنا (to strive) ہے- اصلاً جہاد کا لفظ پرامن کوشش کے لئے بولا جاتا ہے- مثلاً حدیث میں آیا ہے: المجاہد من جاہد نفسہ فی طاعة اللہ (مسند احمد، رقم الحدیث: 23958)-یعنی جہاد کرنے والا وہ ہے جو اپنے نفس سے اللہ کی اطاعت میں جہاد کرے-اس روایت کے مطابق جہاد ایک ایسا عمل ہے جو خود اپنے نفس کے خلاف ہوتا ہے- ظاہر ہے کہ اپنے نفس کے خلاف جو جہاد کیا جائے گا وہ صرف پرامن جہاد ہوگا، یعنی اپنے نفس کا محاسبہ کرنا، اپنی خواہشوں کو کنٹرول کرنا-حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں جہاد کا لفظ دعوت الی اللہ کے لئے آیا ہے، یعنی دعوتی مشن کے لئے پرامن جدوجہد- دعوتی مشن ایک مستقل مشن ہے- وہ مختلف انداز میں اور مختلف طریقوں سے ہر دور میں جاری رہتا ہے- مثلاً دنیا کی ہر زبان میں قرآن کے ترجموں کی اشاعت، ہر زمانے کے تقاضوں کے مطابق اسلامی لٹریچر تیار کرکے اس کو پھیلانا، دعوت کی عالمی اشاعت کے لئے پروگرام بنانا، موجودہ زمانے میں الیکٹرانک طریقوں کو اسلام کا پیغام پھیلانے کے لئے استعمال کرنا، وغیرہ-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔