Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala April 2015
Al-Risala April 2015

اجتماعی نظام، اصلاح افراد

Urdu · 3 min read

اسلام میں اجتماعی نظام کا اصول الگ ہے، اور افراد کی اصلاح کا اصول الگ- یہی طریقہ خالق کے قائم کردہ فطری نظام کے مطابق ہے- اگر ان دونوں پہلوؤں کو ایک کردیا جائے تو دونوں میں سے کسی کی اصلاح کا حق ادا نہیں ہوگا- جب کہ دونوں پہلوؤں کا نظم الگ کرنے کی صورت میں دونوں کا حق ادا کرنا ممکن ہوجاتا ہے-

اصل یہ ہے کہ فرد کی اصلاح کا معاملہ آخرت سے جڑا ہوا ہے- آخرت میں ہر فرد سے اس کے ذاتی عمل کی بنیاد پر الگ الگ معاملہ کیا جائے گا- اس لیے اسلامی نقشے میں فرد کے معاملے کو اس کے ذاتی فیصلے پر منحصر قرار دیا گیا ہے- قرآن میں بتایا گیا ہے کہ : وَقُلِ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّکُمْ ۖ فَمَن شَآءَ فَلْیُؤْمِن وَمَن شَآءَ فَلْیَکْفُرْ(18:29)- اس کا مطلب یہ ہے کہ فرد (individual) کے معاملے میں اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ پرامن انداز میں حق کی وضاحت کی جاتی رہے- دلائل کے ذریعہ حق کو لوگوں کے لیے قابل قبول اور قابل فہم (understandable) بنایا جاتا رہے- یہ فرد کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ اس کو قبول کرتا ہے یا وہ اس کا انکار کردیتا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جہاں تک مجتمع (society) کی بات ہے، اس کا اصول قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَأَمْرُھُمْ شُوْرَیٰ بَیْنَہُمْ (42:38) یعنی اور ان کا نظام شوریٰ پر ہے- قرآن کی اس آیت کا ترجمہ اگر انگریزی زبان میں کیا جائے تو وہ یہ ہوگا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

And whose affairs are decided by mutual consultation.

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے مطابق سماج کا نظام شوریٰ پر مبنی ہونا چاہئے، اسی طریقہ پر جس کو موجودہ زمانے میں جمہوریت (democracy) کہاجاتا ہے- یعنی اجتماعی معاملات میں سماج کے افراد سے مشورہ کیا جائے، اور پھر یا تو اتفاق رائے کی بنیاد پر یا کثرت رائے کی بنیاد پر اجتماعی معاملات کا فیصلہ کیا جائے- یہی جمہوریت کی روح ہے، اور یہی شوریٰ کا مقصود بھی-

اصل یہ ہے کہ خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، اس دنیا میں ہر انسان کو آزادی حاصل ہے- یہ آزادی اتنی زیادہ حتمی ہے کہ اس کو منسوخ (abolish)کرنا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں- اس لئے سماجی نظم کے معاملے میں صرف عملیت (pragmatism) کا طریقہ چل سکتاہے، معیار (idealism) کا طریقہ سماج کے معاملے میں قابل عمل نہیں- اگر سماج کے معاملے میں آئیڈیلزم کو چلایا جائے تو نتیجہ کے اعتبار سے اس کا انجام بدنظمی (anarchy) ہوگا، نہ کہ آئیڈیلزم-

اس معاملے کا قابل عمل حل یہ ہے کہ سماج کے معاملے میں جمہوریت کا طریقہ اختیار کیا جائے، یعنی مقرر مدت پر آزادانہ اور منصفانہ الیکشن (free and fair election) ہو، اور پھر منتخب افراد کے ذریعہ محدود مدت کے لیے ایک سماجی نظم قائم کیا جائے- یہ نظم سماج یا عوام کی رضامندی کی بنیاد پر مقرر مدت (term) تک چلایا جائے گا، نہ کہ کسی معیاری اصول کی بنیاد پر- مقرر مدت پوری ہونے پر دوبارہ الیکشن ہو، اور منتخب افراد دوبارہ محدود مدت کے لیے نظم کو سنبھالے- اجتماعی نظم کے معاملے میں یہی صورت قابل عمل ہے، اور یہی صورت خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہے-

افراد کے معاملے میں جو کچھ مطلوب ہے، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّىٰہَا. فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَىٰہَا. قَدْ أَفْلَحَ مَن زَکَّىٰہَا. وَقَدْ خَابَ مَن دَسّٰہَا.(91:7-10) اور نفس انسانی اور جیسا کہ اس کو ٹھیک کیا، پس اس کو سمجھ دی اس کی بدی اور نیکی کی- کامیاب ہوا جس نے اس کو پاک کیا اور نامراد ہوا جس نے اس کو آلودہ کیا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تخلیقی نقشہ کے مطابق، فرد کی اصلاح، ہر شخص کا اپناذاتی معاملہ ہے -ہر شخص کو خود یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی فطرت کو زندہ کرے، اور خالق کے مطلوب نقشے کے مطابق، اپنی شخصیت کی تعمیر کرے- اسی شخصیت کو قرآن میں مزکیّٰ شخصیت (purified personality) کہا گیا ہے- یہ مزکیّٰ شخص ایک خود تعمیر کردہ انسان (self-made man) ہوتا ہے- یہی وہ انسان ہے، جس پر دنیا کی زندگی میں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں، اور یہی وہ انسان ہے جس کو آخرت میں جنت کے ابدی باغوں میں داخل کیا جائے گا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content