← Al-Risala April 2015Al-Risala April 2015
امن کا دور
Urdu · 4 min read
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے- صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: عن خباب بن الأرت شکونا إلى رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، وھو متوسد بردة لہ فی ظل الکعبة، فقلنا: ألا تستنصر لنا، ألا تدعولنا؟ فقال: قد کان من قبلکم، یؤخذ الرجل فیُحفَر لہ فی الأرض، فیُجعَل فیہا، فیُجَاء بالمنشار فیُوضَع على رأسہ فیُجعَل على نصفین، ویُمشَط بأمشاط الحدید ما دون لحمہ وعظمہ، فما یصدہ ذلک عن دینہ- واللہ لیُتَمنَّ ہذا الأمر، حتى یسیرَ الراکبُ من صنعاء إلى حضر موت، لا یخاف إلا اللہ والذئب على غنمہ، ولکنکم تستعجلون (صحیح البخاری: 6943)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یعنی حضرت خباب کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی-اور اس وقت آپ کعبہ کے سائے میں اپنی ایک چادر کا تکیہ لگائے ہوئے لیٹے تھے- ہم نے کہا کہ کیا آپ ہمارے لیے مدد نہیں مانگتے، کیا آپ ہمارے لیے دعانہیں کرتے- آپ نے فرمایا: تم سے پہلے جو لوگ تھے ان کا حال یہ تھاکہ ایک شخص کو پکڑا جاتا، پھر اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا، پھر اس کو اس میں گاڑ دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا، پھر اس کو آدمی کے سر پر رکھا جاتا، پھر آرا چلا کر اس آدمی کے جسم کے دو ٹکڑے کردئے جاتے- لوہے کی کنگھی سے، اس میں کنگھی کی جاتی یہاں تک کہ وہ اس کے گوشت اور ہڈی تک پہنچ جاتا، مگر یہ چیز آدمی کو اس کے دین سے نہ روکتی- قسم اللہ کی، اللہ اِس امر کو ضرور پورا کرکے رہے گا، یہاں تک کہ یہ حال ہوگا کہ ایک مسافر صنعاء سے حضرموت تک جائے گا، اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور کا ڈر نہ ہوگا- اور اس کو اپنی بکریوں پر صرف بھیڑیے کا ڈر ہوگا، مگر تم لوگ جلدی کررہے ہو-
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اس حدیث میں دراصل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے ایک اہم پہلو کو بتایا گیا ہے- پیغمبر اسلام کے مشن کا ایک پہلو یہ تھا کہ اس دنیا میں ایسا انقلاب لایا جائے، جس کے نتیجے میں دنیا میں مذہبی امن قائم ہوجائے- ہزاروں سال سے جاری شدہ مذہبی تشدد (religious persecution) کا مکمل خاتمہ ہوجائے- تاہم آپ کے مشن کا یہ نتیجہ ایک تدریجی عمل کے ذریعہ مستقبل میں ظاہر ہونے والا تھا، نہ کہ فوری طور پر خود زمانۂ رسول میں-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ عمل شروع ہوا- پہلے قبائلی سطح پر مذہبی تشدد کا خاتمہ ہوا- اس کے بعد ایک تدریجی عمل کے ذریعہ حکومتی سطح پر اس کا عملاً خاتمہ ہوگیا- یہاں تک کہ بیسویں صدی عیسوی کے وسط میں اقوام متحدہ (UNO) قائم ہوئی- اس کے تحت دنیا کی تمام قوموں کے نمائندوں نے بین اقوامی طورپر یہ عہد کیا کہ ان کے ملکوں میں مذہب کی بنیاد پر کسی کے خلاف تشدد نہیں کیاجائے گا-
تشدد (violence) ایک ایسا معاملہ ہے جو ہمیشہ دو فریقوں کے درمیان ہوتا ہے، تشدد کرنے والا اور تشدد کا شکار ہونے والا- قدیم زمانے میں مذہب ، حکومت کا ایک شعبہ سمجھا جاتا تھا- یہ سمجھا جاتا تھاکہ جائز مذہب وہی ہے جو سرکاری مذہب (official religion) ہو- کوئی شخص سرکاری مذہب کے سوا کوئی اور مذہب اختیار کرے تو یہ ایک ایسا جرم تھا، جو حکومت سے بغاوت کے ہم معنی تھا- یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں اس شخص کو تشدد کا شکار ہونا پڑتا تھا،جو حکومت کے اختیار کردہ مذہب کے سوا کسی اور مذہب کو اپنا مذہب بنائے-
قدیم زمانے میں ساری دنیا میں خاندانی حکومتوں کا نظام قائم تھا- یہ لوگ اپنی حکومت کے استحکام کے لیے، کسی اختلاف کو برداشت نہیں کرتے تھے- یہ صورت حال اللہ کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے خلاف تھی-
اللہ کی منشا یہ ہے کہ مذہب کے معاملے میں ہر انسان کو آزادی حاصل ہو، تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ کس نے صحیح طریقہ اختیار کیا اور کس نے غلط طریقہ اختیار کیا- اس لیے رسول اور رسول کے ماننے والوں کو یہ حکم دیاگیا کہ تم لوگ مذہبی تشدد پر مبنی اس نظام کو ختم کردو ( 8:39)، تاکہ انسانوں کے درمیان وہ حالت فطری قائم ہوجائے جو خالق کو مطلوب ہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ حدیث میں اسی منصوبۂ خداوندی کا ذکر کیا گیا ہے- اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے فیصلہ کے مطابق، حتمی طورپر یہ ہونے والا ہے کہ دنیا میں مذہبی آزادی (religious freedom) آئے، اور مذہبی تشدد کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذہبی آزادی کا یہ دور بیسویں صدی میں پوری طرح آگیا- اب مذہب کے معاملے میں کسی کے اوپر کوئی جبر نہیں- اب تشدد کا معاملہ صرف اس شخص یا گروہ کے ساتھ پیش آئے گا، جو اپنی طرف سے غیر ضروری تشدد کرکے فریق ثانی کو جوابی تشدد کا موقع دے- تشدد کرنے والے کو بہر حال جوابی تشدد کا شکار ہونا پڑے گا، خواہ اس نے اپنا تشدد مذہب کے نام پر کیا ہو یا مذہب کے سوا کسی اور نام پر-