قرآن میں مستقبل کے ایک واقعہ کا ذکر ہے، اس کو اتمام نور ( 61:8) کہاگیا ہے- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے نزول یا اسلام کے ظہور سے جو کچھ مطلوب تھا، وہ فوراً حاصل ہونے والا نہ تھا-اس کے لیے ضروری تھاکہ تاریخ میں ایک لمبا عمل (long process) جاری ہو، اور پھر اس کی تکمیل پر تمام مطلوب چیزیں کلی طورپر حاصل ہوجائیں-
یہ مطلوب نشانہ کب پورا ہوا- غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں جو انقلاب آیا، وہ اس معاملے کا آغاز تھا- اس انقلاب نے تاریخ میں ایک عمل (process)جاری کیا- ہزار سال سے زیادہ مدت تک یہ طاقت ور عمل مختلف صورتوں میں تاریخ میں جاری رہا- یہاں تک کہ آخری طورپر بیسویں صدی عیسوی میں یہ تمام چیزیں کامل طورپر حاصل ہوئیں-اس عمل میں مختلف اقوام عالم نے حصہ لیا- کسی نے شعوری طورپر اور کسی نے غیر شعوری طورپر، کسی نے دینی جذبہ کے تحت اور کسی نے سیکولر جذبہ کے تحت، کوئی براہِ راست طورپر اس تاریخی عمل کا حصہ بنا اور کوئی بالواسطہ طورپر اس تاریخی عمل کا حصہ بنا-
قرآن کی مذکورہ آیت میں نور الہی سے مراد کوئی پراسرار چیز نہیں ہے- اس سے مراد ہدایت انسان کی وہ تحریک ہے، جو اللہ کی خصوصی نصرت سے شروع ہوئی ، اور انسانی آزادی، اور اسباب وعلل کو باقی رکھتے ہوئے مسلسل طورپر جاری رہی- اس عمل کی تکمیل اس طرح نہیں ہوسکتی تھی، جس طرح روشن سورج نکلتا ہے- سورج کا سفر خلا (space) میں جاری ہوتاہے، جب کہ دعوتِ توحید کا مشن انسانوں کے درمیان جاری ہوتا ہے- اس فرق کی رعایت کے ساتھ ہدایت الہی کا مشن تاریخ میں جاری ہوا اور مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے اپنی تکمیل تک پہنچا- بیسویں صدی اس عمل کی تکمیل کی صدی تھی- اب دعوت کے تمام مطلوب مواقع کھل چکے ہیں- اہلِ ایمان کو چاہئےکہ وہ ان مواقع کو پہچانیں، اور بھر پور طور پر ان کو استعمال کریں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔