Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala April 2015
Al-Risala April 2015

قرآنی انقلاب

Urdu · 5 min read

قرآن سادہ معنوں میں ایک مذہبی کتاب نہیں- قرآن کے نزول کا مقصد یہ تھا کہ تاریخ میں ایک بڑا انقلاب لایا جائے- اسی بات کو قرآن میں لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ( 9:33) کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے- یہ انقلاب اچانک نہیں آسکتا تھا- اس کی صورت صرف یہ تھی کہ تاریخ میں ایک طاقت ور عمل (strong process) جاری کیا جائے- اس عمل کو اس طرح جاری رکھنا تھا کہ انسانی آزادی بھی باقی رہے، اور یہ عمل بھی تاریخ میں سفر کرتے ہوئے اپنے نقطۂ انتہا (culmination) تک پہنچ جائے- اللہ کے منصوبے کے تحت یہ عمل ساتویںصدی عیسوی کے نصف اول میں شروع ہوا، اور بیسویں صدی میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا- موجودہ زمانے میں جس ظاہرہ کو عام طور پر مغربی تہذیب کہاجاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی عمل کی تکمیل کا دوسرا نام ہے- اِس لحاظ سے اس تہذیب کو زیادہ درست طورپر خدائی تہذیب (Divine Civilization) کہنا چاہئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق انسان کو موجودہ زمین (planet earth) پر ابتلا (test) کے لیے پیدا کیا گیا ہے- اس مقصد کے لیے انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے- فرشتوں کی نگرانی میں یہ دیکھا جارہاہے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کررہاہے، اور کون شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کررہا ہے- اِسی ریکارڈ کے مطابق ہر فرد کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا-مگر انسانوں کی اکثریت نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا- اس غلط استعمال کی سب سے زیادہ نامطلوب صورت یہ تھی کہ کچھ انسانوں نے پوری دنیا میںاجارہ داری (monopoly) کا نظام قائم کردیا— سیاسی اجارہ داری، اقتصادی اجارہ داری، مذہبی اجارہ داری، خاندانی اجارہ داری، وغیرہ- اجارہ داری کے اس نظام کی بنا پر انسانی آزادی کا وہ ماحول باقی نہ رہا جو مطلوب امتحان کے لئے ضروری تھا- اللہ تعالی نے یہ چاہا کہ اجارہ داری کے اس نظام کو ختم کرکے دنیا میں فطری آزادی کا ماحول واپس لایا جائے- قرآن کے ذریعہ یہی انقلاب مطلوب تھا، جس کو ایک لفظ میں ختمِ اجارہ داری (de-monopolization) کہاجاسکتا ہے-

سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ

یہ غیر فطری نظام اصلاً سیاسی اجارہ داری کے زور پر قائم تھا- اس لیے یہ مطلوب تھا کہ تاریخ میں ایک ایسا عمل جاری کیا جائے، جس کے نتیجہ میں سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ ہوجائے، اور نتیجتاً دوسری تمام اجارہ داریاں بھی ختم ہوجائیں- تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام کے ذریعہ یہ عمل شروع ہوا- اس عمل کے دوران سب سے پہلے عرب میں قبائلی اجارہ داری (tribal monopoly) کا دور ختم کیا گیا- اس کے بعد اصحابِ رسول کے ذریعے ساسانی سلطنت اور رومی سلطنت کا خاتمہ کیاگیا-یہ دنیا سے سیاسی اجارہ داری ختم کرنے کا آغاز تھا- اس کے بعد جب مسلمان زمین کے مختلف حصوں میں پھیلے تو انھوں نے مختلف مقامات پر قائم شدہ چھوٹی چھوٹی سلطنتوں کو ختم کرکے ہمیشہ کے لیے سیاسی اجارہ داری کے دور کا خاتمہ کردیا-

تاہم مسلمان اس تاریخی عمل میں صرف بقدر نصف اپنا حصہ ادا کرسکے- سابقہ شاکلہ (previous mindset) کے تحت، مسلمانوں نے یہ کیا کہ خلافت کے نام سے دوبارہ خاندانی نظامِ حکومت (dynasty) کو قائم کردیا- اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان مطلوب عمل میں صرف جزئی کردار ادا کرسکے-

کروسیڈس کا دور

بارھویں اور تیرھویں صدی میں مسلم حکومتوں اور مسیحی حکومتوں کے درمیان جنگ پیش آئی- اس جنگ میں بظاہر مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی، لیکن اپنے نتیجہ کے اعتبار سے کروسیڈس کا یہ واقعہ، مذکورہ تاریخی عمل میں ایک شفٹ (shift)کا ذریعہ بن گیا- اس کے بعد یورپ میں ایک نیا عمل شروع ہوا، جس کو بعض مورخین نے روحانی کروسیڈس (spiritual crusades) کا نام دیا ہے، یعنی غیر سیاسی کروسیڈس- کروسیڈس سے پہلے مذکورہ عمل مسلم اقوام کے ذریعہ جاری ہوا- مسلمان اس عمل کو سیاسی سطح پر انجام دے رہے تھے- مگر یہ عمل اپنے مطلوب خاتمہ تک نہیں پہنچا- اس کے بعد اللہ تعالی کو یہ منظور ہوا کہ اس عمل کی ذمہ داری مغربی اقوام کو سونپی جائے- چنانچہ ایسا ہی ہوا، اور مغربی اقوام نے مذکورہ عمل کو اس کی آخری حد تک پہنچایا- اس کے بعد یہ ہوا کہ تدریجی طورپر وہ دور ختم ہوگیا جس کو اوپر ہم نے اجارہ داری کا دور کہا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

شفٹ کا یہ واقعہ خدائی منصوبے کے تحت ہوا- چنانچہ حدیث میں اس کا ذکر ان الفاظ میں کیاگیا ہے: إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (البخاری: 3062) یعنی اللہ ضرور اس دین کی مدد فاجر (secular) انسان کے ذریعہ کرے گا- ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں: لیؤیدن اللہ ہذا الدین بقوم لاخلاق لھم (صحیح ابن حبان: 4517) یعنی اللہ ضرور اس دین کی مدد ایسی قوم کے ذریعہ کرے گا، جن کا (دین میں) کوئی حصہ نہ ہوگا- ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں: إن اللہ لیؤید ہذا الدین برجال ما ہم من أھلہ (مجمع الزوائد: 9567) یعنی اللہ ضرور اس دین کی مدد ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا جو اہل (دین) میں سے نہ ہوں گے- اس حدیث میں بظاہر غیرمسلم اقوام سے مراد مغربی اقوام ہیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کروسیڈس کی لڑائیوں میں مغربی قوموں کو ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) ہوئی- یہ شکست خدائی منصوبے کے مطابق تھی- اس شکست نے ایک نیا جبر (compulsion) پیدا کیا- مغربی قومیں اس زمانے میں مسلم قوموں کی حریف بن گئی تھیں، لیکن کروسیڈس کی لمبی لڑائی میں شکست کے بعد یہ ثابت ہوگیا کہ مغربی قومیں فوجی میدان میں لڑ کر مسلمانوں پر غلبہ حاصل نہیں کرسکتیں- اس صورت حال نے مغربی قوموں کو مجبور کیا کہ وہ غیر فوجی میدان میں اپنا عمل جاری کریں- یہی وہ عمل ہے جس کو نشأة ثانیہ (Renaissance)کہاجاتا ہے- مغربی یورپ میں یہ عمل چودھویں صدی عیسوی سے لے کر سولھویں صدی عیسوی تک جاری رہا- یہی وہ دور ہے جس زمانے میں یورپ میں پرنٹنگ پریس ایجاد کیاگیا-اس کے بعد یورپ میں مزید ترقیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ ترقی یافتہ زمانہ آیا جس کو مغربی تہذیب (western civilization) کہاجاتا ہے- یہ تہذیب پوری انسانی تاریخ کا ایک اعتبار سے نقطۂ عروج ہے- مغربی تہذیب کے زمانے میں وہ تمام واقعات پیش آئے جو قرآنی اسکیم کے تحت مطلوب تھے- اس لیے زیادہ درست طورپر اس کو خدائی تہذیب (Divine Civilization) کہنا چاہئے- مغربی تہذیب نے یہ کیا کہ اجارہ داری کے دور کو ختم کردیا، اس طرح انسانی آزادی کا وہ مطلوب ماحول پیدا ہوگیا جو خدا کے نقشۂ تخلیق کے مطابق درکار تھا-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content