احیاءِ ملت کے سلسلے میں عام طورپر یہ بات کہی جاتی ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو دوبارہ زندہ ملت بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اُن کو ان کا ماضی یاد دلایا جائے- کہاجاتا ہے کہ — اقوام وملل کی تاریخ اِس بات پر گواہ ہے کہ جو قوم اپنے ماضی سے کٹ جائے، وہ کبھی کامیابی حاصل نہیں کر پاتی- اِس نقطہ نظر کےمطابق، موجودہ مسلمانوں کا احیاءِ نو اِس لیے نہیں ہوا کہ اس کے رہنماؤں نے اُن کارشتہ ماضی سے نہیں جوڑا-
یہ ایک خلافِ واقعہ بات ہے- حقیقت اِس کے برعکس یہ ہے کہ پچھلے دو سوسال میں پوری مسلم دنیا میں جو رہنما اٹھے، اُن سب نے بلا استثنا یہی ایک کام کیا کہ انھوں نے مسلمانوں کو ان کے ماضی کی تاریخ مبالغہ آمیز اندازمیں یاد دلائی، تاکہ حال میں انھیں اِس گزری ہوئی تاریخ کے اعادے پر ابھارا جائے- مگر عملاً یہ تدبیر سر تاسر ناکام رہی- اِس سلسلے میں مسلم رہنماؤں کی تمام کوششیں بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں-
ایسی حالت میں اصل سوال ماضی کی تدبیر پر نظر ثانی کرنے کا ہے، نہ کہ مذکورہ قسم کی پر جوش تحریر وتقریر کرنے کا- مگر عجیب بات ہے کہ اکیسویں صدی کے تمام مسلم رہنما تقریباً وہی بات کہہ رہے ہیں جس کی ایک مثال مذکورہ نقطہ نظر میں پائی جاتی ہے-
ایسا کیوں ہے- اِس کا سبب صرف ایک ہے اور وہ ہے — فقدانِ نتیجہ کو فقدانِ عمل کے ہم معنی سمجھ لینا، کیوں کہ پچھلی دو سو سالہ کوششوں کا کوئی مطلوب نتیجہ نہیں نکلا، اِس لیے ہمارے رہنما مزید بے شعوری کا ثبوت دیتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس کے لیے مطلوب عمل نہیں کیاگیا-
اِس معاملے میں رہنماؤں کی اصل غلطی یہ ہے کہ اُن کی تشخیص درست نہ تھی، کسی قوم کی تعمیر کا راز یہ ہے کہ اس کو حال سے باخبر کیا جائے- ماضی کی کہانیاں سنانے کا کوئی فائدہ نہیں- ماضی کی کہانیوں سے صرف فرضی فخر (false pride) کا مزاج بنتا ہے، جب کہ حال کے بارے میں باشعور ہونے سے عمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، یعنی وقت کے چیلنج کو سمجھنا اور اس کے مطابق، منصوبہ بند جدوجہد کرنا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔