Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala April 2014
Al-Risala April 2014

میں نہیں جانتا

Urdu · 2 min read

عبد اللہ بن وہب مصری (وفات: 197ھ) مالکی فقیہ اور محدث ہیں- وہ بیس سال تک امام مالک کی صحبت میں رہے (صحب الإمام مالک عشرین سنة)- انھوں نے ایک بار کہاکہ: لو شئت أن أملأ ألواحی من قول مالک بن أنس ’’لاأدری‘‘ فعلتُ- (مجلة الوعی الإسلامی، کویت، فروری 2014، صفحہ: 97) یعنی مالک بن انس ’’میں نہیں جانتا‘‘اتنا کہتے تھے کہ اگر میں چاہوں تو میں اپنی تختیوں کو اُن کے اس قول سے بھر دوں کہ ’’میں نہیں جانتا‘‘-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ کہنا کہ ’’میں نہیں جانتا‘‘ (لاأدری) کوئی سادہ بات نہیں، یہ ایک گہری حکمت (deep wisdom) کی بات ہے- ’’میں نہیں جانتا‘‘ کہنا ایک عظیم نفسیاتی حقیقت کی علامت ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ایک سوچنے والا انسان ہے، وہ مسلسل طورپر غور وفکر میں مشغول ہے- جو آدمی نہ بولے، وہ سوچ رہا ہے- جو آدمی جواب نہ دے، وہ سوال پر غور کررہا ہے-

کسی آدمی کے لیے فطرت کا سب سے بڑا تحفہ اس کا ذہن ہے- کسی آدمی کے لیے سب سے بڑا عمل یہ ہے کہ اس کے ذہن میں مسلسل طور پر تفکیری عمل (thinking process) جاری رہے- تفکیری عمل سے آدمی کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) آتی ہے، اُس کے اندر مسلسل طورپر ذہنی ارتقا (intellectual development)کا عمل جاری رہتا ہے-

یہی ذہنی ارتقا وہ چیز ہے جو انسان کی تمام اعلی ترقیوں کی ضامن ہے- ذہنی ارتقا انسان کو انسان بناتا ہے- جس شخص کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل جاری نہ ہو، وہ بظاہر انسان ہوگا، لیکن بہ اعتبار حقیقت وہ حیوان کی مانند بن کر رہ جائے گا-

کم بولنے کا مطلب ہے زیادہ سوچنا- میں نہیں جانتا کا مطلب ہے زیادہ غور کرنا- اِسی طرح چپ رہنا زیادہ سنجیدگی (sincerity)کی علامت ہے — یہی وہ صفات ہیں جو ایک عام انسان کو اعلی انسان بناتی ہیں-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content