عبد اللہ بن وہب مصری (وفات: 197ھ) مالکی فقیہ اور محدث ہیں- وہ بیس سال تک امام مالک کی صحبت میں رہے (صحب الإمام مالک عشرین سنة)- انھوں نے ایک بار کہاکہ: لو شئت أن أملأ ألواحی من قول مالک بن أنس ’’لاأدری‘‘ فعلتُ- (مجلة الوعی الإسلامی، کویت، فروری 2014، صفحہ: 97) یعنی مالک بن انس ’’میں نہیں جانتا‘‘اتنا کہتے تھے کہ اگر میں چاہوں تو میں اپنی تختیوں کو اُن کے اس قول سے بھر دوں کہ ’’میں نہیں جانتا‘‘-
یہ کہنا کہ ’’میں نہیں جانتا‘‘ (لاأدری) کوئی سادہ بات نہیں، یہ ایک گہری حکمت (deep wisdom) کی بات ہے- ’’میں نہیں جانتا‘‘ کہنا ایک عظیم نفسیاتی حقیقت کی علامت ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ایک سوچنے والا انسان ہے، وہ مسلسل طورپر غور وفکر میں مشغول ہے- جو آدمی نہ بولے، وہ سوچ رہا ہے- جو آدمی جواب نہ دے، وہ سوال پر غور کررہا ہے-
کسی آدمی کے لیے فطرت کا سب سے بڑا تحفہ اس کا ذہن ہے- کسی آدمی کے لیے سب سے بڑا عمل یہ ہے کہ اس کے ذہن میں مسلسل طور پر تفکیری عمل (thinking process) جاری رہے- تفکیری عمل سے آدمی کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) آتی ہے، اُس کے اندر مسلسل طورپر ذہنی ارتقا (intellectual development)کا عمل جاری رہتا ہے-
یہی ذہنی ارتقا وہ چیز ہے جو انسان کی تمام اعلی ترقیوں کی ضامن ہے- ذہنی ارتقا انسان کو انسان بناتا ہے- جس شخص کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل جاری نہ ہو، وہ بظاہر انسان ہوگا، لیکن بہ اعتبار حقیقت وہ حیوان کی مانند بن کر رہ جائے گا-
کم بولنے کا مطلب ہے زیادہ سوچنا- میں نہیں جانتا کا مطلب ہے زیادہ غور کرنا- اِسی طرح چپ رہنا زیادہ سنجیدگی (sincerity)کی علامت ہے — یہی وہ صفات ہیں جو ایک عام انسان کو اعلی انسان بناتی ہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔